وائٹ ہاؤس میں شہباز شریف اور عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 ستمبر 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں بہتری کی تازہ ترین علامت کے طور پر جمعہ کی علی الصبح پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی۔
ملاقات کے بعد وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس میٹنگ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔تاہم اس ملاقات میں پریس کو اجازت نہیں تھی، اس لیے جو بھی گفت و شنید ہوئی وہ بند کمرے میں ہوئیں۔ البتہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والی تصاویر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹرمپ کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
(جاری ہے)
یہ میٹنگ اصل میں واشنگٹن کے وقت کے مطابق جمعرات کو شام ساڑھے چار بجے شروع ہونی تھی، تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی بعض اہم مصروفیات کے سبب اس میں تقریباً 30 منٹ کی تاخیر ہوئی اور اس طرح پاکستانی وقت کے مطابق جمعہ کی اولین ساعتوں یعنی رات کے تقریباﹰ دو بجے شروع ہوئی۔
یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہی۔
چھ برس بعد پاکستانی رہنما کی امریکی صدر سے ملاقاتسابق وزیر اعظم عمران خان کی جولائی 2019 میں ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران ملاقات ہوئی تھی، جس کے چھ سال بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی باضابطہ دو طرفہ بات چیت ہے۔
چند روز قبل جب صدر ٹرمپ نے عرب اور بعض اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، تو اس وفد میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل تھے اور اس دوران بھی ان کی ٹرمپ سے ایک غیر رسمی ملاقات ہو ئی تھی۔
اس تازہ ملاقات سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ''عظیم لیڈر‘‘ آ رہا ہے۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل آ رہے ہیں، دونوں عظیم شخصیات ہیں۔" صدر ٹرمپ نے میٹنگ کی تاخیر کے بارے میں کہا کہ "وہ آ رہے ہیں اور وہ اس وقت اس کمرے میں ہو سکتے ہیں۔
مجھے معلوم نہیں، کیونکہ ہمیں تھوڑی دیر ہو گئی ہے۔"عام طور پر ٹرمپ اوول آفس میں اپنی میٹنگ کے لیے اگر عام صحافیوں کو اجازت نہ بھی ہو، تو بھی وہ اپنے منتخب کیمرہ پرسن اور رپورٹرز کو مدعو کرتے ہیں، تاہم اس میٹنگ کے دوران وہاں کسی کے موجود ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے کوئی بیان جاری کیا۔
البتہ ریڈیو پاکستان نے ملاقات سے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ "توقع ہے کہ اس میں باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔
"یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے، جب وزیر اعظم نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے لیے امریکہ میں ہیں۔
ملاقات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نیویارک واپس ہو رہے ہیں، جہاں انہیں جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں گرمجوشیاس ملاقات سے قبل 20 جون کو وائٹ ہاؤس میں پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے ملاقات کی تھی اور اس طرح ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات بتدریج بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
امریکہ برسوں سے بھارت کو ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک کاؤنٹر ویٹ کے طور پر دیکھتا رہا ہے، جب کہ پاکستان کو چین کے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات منجمد رہے ہیں اور صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر اعظم شہباز شریف وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل پاکستان کے سے ملاقات رہے ہیں کی صدر اور اس
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔