نیتن یاہو کا اقوام متحدہ سے خطاب، مسلم ممالک کا بائیکاٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
صیہونی وزیراعظم نے حال ہی میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کا ذکر کیا تھا، جسے مسلم ممالک کے رہنماؤں نے عرب دنیا کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عرب اور مسلم ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کریں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے دوران مسلم ممالک کے مندوبین اسمبلی ہال سے اٹھ کر باہر چلے جائیں گے۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو نے حال ہی میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کا ذکر کیا تھا، جسے مسلم ممالک کے رہنماؤں نے عرب دنیا کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔ آج جنرل اسمبلی اجلاس سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، چین کے وزیراعظم لی چیانگ اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی خطاب کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم ممالک نیتن یاہو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔