Islam Times:
2026-07-24@03:44:05 GMT

ٹرمپ کی کھلی اور تباہ کن یکہ تازیاں

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

ٹرمپ کی کھلی اور تباہ کن یکہ تازیاں

اسلام ٹائمز: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گذشتہ موقف دہراتے ہوئے دعوی کیا کہ "اقوام متحدہ نے عمل سے زیادہ باتیں کی ہیں" اور نیو ورلڈ آرڈر میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو "بڑا دھوکہ" قرار دیا اور پناہ گزینوں کو دنیا کے ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ باتیں ایسے وقت کی ہیں جب فلسطین پر اسرائیل کی بہیمانہ جارحیت سے لے کر یوکرین جنگ اور مشرق وسطی میں جاری دیگر تنازعات تک بہت سے عالمی بحران بین الاقوامی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ان کی ثالثی کے محتاج ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش دنیا کو عدم استحکام اور انتشار کے نہ ختم ہونے والے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی تقریر پر مختلف قسم کے ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔ تحریر: احسان شیخون
 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر نے بہت کھل کر اور واضح ترین ممکنہ شکل میں یکہ تازیوں پر مبنی انداز کو عیاں کیا ہے جبکہ ٹرمپ کی "فرسٹ امریکہ" کی پالیسی بھی انتہاپسندانہ ترین شکل میں منظرعام پر آئی ہے۔ یہ انداز نہ صرف عالمی سطح پر دنیا کو درپیش مختلف بحرانوں کے حل میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی تعاون اور اعتماد پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایسا انداز اپنایا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس نے اقوام متحدہ کو "بے ارزش اور ناکارہ" قرار دیا اور تاکید کرتے ہوئے کہا: "جو ملک بھی سلامتی کا خواہاں ہے اسے امریکہ کی چھتری کے نیچے آ جانا چاہیے۔" اس نے حتی تمسخر آمیز انداز میں عمارت میں چند ٹیکنیکل مسائل کی طرف اشارہ کیا اور اسے اقوام متحدہ کی نالائقی کا ثبوت قرار دیا۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گذشتہ موقف دہراتے ہوئے دعوی کیا کہ "اقوام متحدہ نے عمل سے زیادہ باتیں کی ہیں" اور نیو ورلڈ آرڈر میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو "بڑا دھوکہ" قرار دیا اور پناہ گزینوں کو دنیا کے ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ باتیں ایسے وقت کی ہیں جب فلسطین پر اسرائیل کی بہیمانہ جارحیت سے لے کر یوکرین جنگ اور مشرق وسطی میں جاری دیگر تنازعات تک بہت سے عالمی بحران بین الاقوامی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ان کی ثالثی کے محتاج ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش دنیا کو عدم استحکام اور انتشار کے نہ ختم ہونے والے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی تقریر پر مختلف قسم کے ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔
 
امریکہ کے کچھ اتحادی ممالک نے خاموشی اختیار کی لیکن یورپی ممالک جیسے بعض ممالک کے نمائندوں نے ٹرمپ سے اپنی مخالفت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا: "اقوام متحدہ تمام تر نقائص کے باوجود اب بھی عالمی گفت و شنود کا اصلی پلیٹ فارم ہے۔ اس ادارے کا متبادل فراہم کرنے کا نتیجہ انارکی اور شدید قسم کے انتشار کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔" ٹرمپ نے بین الاقوامی اداروں کو کم اہمیت ظاہر کر کے بین الاقوامی تعلقات عامہ جیسی پیچیدہ حقیقت کا انکار کیا ہے۔ امریکہ اگرچہ طاقتور معیشت کا مالک ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر موجود بحرانوں کا حل صرف ایک ملک پر بھروسہ کرنے سے ممکن نہیں ہے۔ "امریکہ کی چھتری تلے جمع ہو جاو" کی پالیسی اگر عملی جامہ بھی پہن لے تب بھی پائیدار امن برقرار نہیں ہو سکتا۔
 
کیونکہ ایسی صورت میں بھی دنیا کے ممالک کے سامنے دو مشکل انتخاب قرار پائیں گے: واشنگٹن کی بے چون و چرا اطاعت یا حریف بلاک جیسے چین اور روس پر مشتمل بلاک کو مضبوط بنانا۔ دونوں صورت میں مشکلات مزید بڑھیں گی اور کم نہیں ہوں گی۔ ٹرمپ ایک طرف اقوام متحدہ کی عدم افادیت کی بات کرتا ہے جبکہ یہی ادارہ اس کی موجودگی اور تقریر کے لیے عالمی پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔ وہ اسی تنظیم کی عمارت میں آ کر اسے "بے اہمیت" کہہ رہا ہے جو اب تک دنیا بھر میں امریکی پالیسیوں کو رائج کرتی آئی ہے۔ یہ واضح تضاد ظاہر کرتا ہے کہ اصل مقصد تعمیری تنقید نہیں بلکہ ایسے ادارے کا اعتبار اور حیثیت ختم کرنا ہے جو اکثر اوقات امریکہ کی یکہ تازیوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر ٹرمپ کی تقریر واقعی امریکی حکومت کی مین پالیسی بن جائے تو اس کے نتیجے میں بین الاقوامی ادارے کمزور ہو جائیں گے۔
 
ایسی صورت میں اقوام متحدہ کا بجٹ اور اثرورسوخ کم ہو جائے گا اور یوں دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی: ایک حصہ امریکہ کی قیادت میں اتحاد اور دوسرا حصہ مخالف اتحاد تشکیل دے گا۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک پر ان دو بلاکس میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے دباو بڑھے گا اور عالمی بحرانوں کے حل کے لیے گفتگو اور مذاکرات مشکل ہوتے جائیں گے۔ ایسی صورتحال حتی خود امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گی کیونکہ کوئی بھی ملک اکیلے میں عالمی سطح پر موجود پیچیدہ مسائل جیسے ماحولیاتی تبدیلیاں، مہاجرت یا علاقائی جنگیں وغیرہ حل کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ ٹرمپ نے "فرسٹ امریکہ" کا پرانا نعرہ دوبارہ لگا کر درحقیقت دنیا اور اپنے اتحادیوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ: امریکہ کے قومی مفادات ہر قسم کی بین الاقوامی ذمہ داری پر فوقیت رکھتے ہیں۔
 
لیکن آج کی باہمی مربوط دنیا میں ایسا انداز نہ صرف محض اوہام پرستی ہے بلکہ عملی طور پر خود امریکہ کی گوشہ نشینی کا باعث بنے گا۔ امریکہ اگر اپنی طاقت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو وہ تعاون کے دروازے بند کر کے دوسروں سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ اس کے پرچم تلے جمع ہو جائیں گے۔ امریکہ میں کچھ حلقوں کے تصور کے برعکس اگر اقوام متحدہ کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے یا وہ ختم ہو جاتی ہے تو اس کا نتیجہ امریکہ کے حق میں ہونے کی بجائے اس کے نقصان میں ظاہر ہو گا کیونکہ اس عالمی ادارے نے گذشتہ دہائیوں کے دوران ہمیشہ امریکی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ کے سیاسی اور اقتصادی اخراجات بھی بڑھ جائیں گے اور چین اور روس جیسے حریف ممالک کو بین الاقوامی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے بہترین مواقع میسر آ جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی اداروں اقوام متحدہ کی ٹرمپ کی تقریر امریکہ کی امریکہ کے ممالک کے قرار دیا جائیں گے گی اور کی ہیں کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم