اسلام آباد ( نیوزڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم نے پاکستان کی منشیات کے خلاف کارروائیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کر لیا۔

پاکستان میں اقوامِ متحدہ ادارہ برائے منشیات و جرائم کے نمائندہ ٹرولز ویسٹر نے انسدادِ منشیات میں پاکستان کو فرنٹ لائن ملک قرار دیا اور کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی بڑی کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان منشیات کے خلاف فرنٹ لائن ملک ہے۔

ٹرولز ویسٹر نے کہا کہ افغانستان میں پوست اور ہیروئن کی جگہ مصنوعی منشیات کی لیبارٹریاں قائم ہو رہی ہیں، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم نے انسدادِ منشیات سے متعلق اہم روڈ میپ بھی جاری کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ پاکستان کو منشیات کے خلاف جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا، منشیات کی سمگلنگ روکنے کیلئے عالمی برادری کا پاکستان کے ساتھ اشتراک ناگزیر ہے۔

ٹرولز ویسٹر نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال میں 365 میٹرک ٹن منشیات اور کیمیکل ضبط کیے، منظم جرائم کی بدلتی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کا کردار اس لڑائی میں کلیدی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: منشیات کے خلاف کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی