صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کی آج ملاقات، آرمی چیف عاصم منیر بھی شریک ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں باضابطہ ملاقات ہوگی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی ہے، جو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے اوول آفس میں منعقد ہوگی۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں عالمی اور علاقائی معاملات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے، جب کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔
ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، انسداد دہشت گردی میں تعاون، افغانستان کی صورتحال اور خطے کے مجموعی حالات جیسے اہم امور شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف، امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اسی روز واپس نیویارک روانہ ہو جائیں گے تاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو سکیں۔ وہ جمعہ کے روز اجلاس سے خطاب بھی کریں گے، جس میں پاکستان کے موقف اور خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل نیویارک میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اجلاس کے دوران بھی وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی۔
اس موقع پر دونوں رہنما خوشگوار اور بے تکلف ماحول میں ایک دوسرے سے طویل گفتگو کرتے رہے۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی مصافحہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ گفتگو کے اختتام پر ’تھمز اپ‘ کا اشارہ کیا، جسے مثبت پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔
اسلامی ممالک کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امیر قطر، اردن کے بادشاہ اور انڈونیشیا کے صدر سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں غزہ میں جنگ بندی کے امکانات اور خطے کے دیگر معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔