افغان حکومت پر عالمی دباؤ، پاکستان، چین، روس اور ایران کا مشترکہ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
روس، چین، پاکستان اور ایران نے افغان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خاتمےکا مطالبہ کیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق چین، ایران، پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کے حوالے سے اپنی چوتھی چار فریقی میٹنگ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر روسی فیڈریشن کی دعوت پر منعقد کی۔ایک مشترکہ بیان میں چاروں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔مشترکہ بیان میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور داعش، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیموں کو خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔وزرائے خارجہ نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے، بھرتی اور مالی معاونت روکنے اور تربیتی مراکز و ڈھانچے بند کرنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کریں۔وزرائے خارجہ نے افغانستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی اقدامات کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ افغان عوام کی خراب معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقتصادی تعاون ضروری ہے۔انہوں نے 1988 کے پابندیوں کے نظام میں زمینی حقائق کے مطابق نرمی کرنے پر زور دیا اور خاص طور پر طالبان حکام کے سفر پر پابندیوں سے متعلق رعایتوں میں دہرے معیار اور سیاسی مفادات سے خبردار کیا۔اگست 2022 سے اب تک طالبان رہنماؤں کو سرکاری اور ذاتی وجوہات کی بنا پر تقریباً چار درجن بار سفری پابندیوں سے استثنیٰ دیا جا چکا ہے۔ روس نے حالیہ ہفتوں میں امریکا کے اس نئے مؤقف پر تنقید کی ہے کہ وہ 1988 کی طالبان پابندی کمیٹی کے کام کو سیاسی بنانے اور اپنے تنگ مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔وزرائے خارجہ نے افغان عوام کو بلا سیاسی امتیاز مزید ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے عالمی برادری سے اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی کی امداد کو جاری رکھا جائے۔چاروں ممالک نے پوست کی کاشت میں کمی کی کوششوں کو سراہا لیکن میتھ ایمفیٹامین جیسے مصنوعی منشیات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے منشیات کے خلاف جامع اقدامات، منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائی، اور متبادل روزگار و زرعی معاونت کے لیے بین الاقوامی مدد پر زور دیا۔چاروں وزرائے خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کی بنیادی ذمہ داری نیٹو رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یکطرفہ پابندیاں ختم کرنے، منجمد افغان اثاثے واپس کرنے اور افغانستان یا اس کے ارد گرد کسی بھی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزرائے خارجہ نے افغان پر زور دیا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش