نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات، متنوع شعبوں میں روابط بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 ستمبر2025ء) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کی۔
(جاری ہے)
جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے مضبوط دوطرفہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقتصادی تعاون، علاقائی روابط، کثیرالجہتی فورمز پر تعاون اور امن کے لیے مشترکہ عزم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے متنوع شعبوں میں روابط بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی ضرورت کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔