عالمی مالیاتی ڈھانچہ ترقی پذیر ممالک کیساتھ عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی )نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچہ ترقی پذیر ممالک کیساتھ عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے‘ قرضوں کے بوجھ اور ماحولیاتی بحران نے ان ممالک کیلئے سنگین مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ میں منعقدہ "پائیدار‘ شمولیتی اور لچکدار عالمی معیشت کے لیے پہلے دو سالہ سربراہی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے لیے بڑھتے ہوئے مالیاتی خلا‘ غیر پائیدار قرضوں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجز کو اجاگر کیا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ قرضوں کے بحران کے حل کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں‘ ترقی و ماحولیاتی مالیات میں اضافہ کیا جائے اور ایک شمولیتی و منصفانہ عالمی اقتصادی نظام تشکیل دیا جائے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر جی77 اور چین کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ اسحاق ڈار نے اجلاس سے اپنے خطاب میں ترقی پذیر ممالک کے اہم مسائل پر گروپ کے اتحاد و یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان گلوبل ساؤتھ کے مشترکہ مفادات کے فروغ اور تحفظ کیلئے اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم‘ اس کے باہر ترقی پذیر دنیا کے حق میں آواز بلند کرنے اور ان کے اجتماعی مفادات کے دفاع کیلئے ہمیشہ شراکت دار کے طور پر موجود رہے گا۔ سلووینیا کی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ تنجا فاجون سے ملاقات کی۔دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات کی صورتحال کا جائزہ لیا اور سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ترقی پذیر ممالک اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز