2050 تک انفلوئنسرز کی ظاہری شکل میں خوفناک تبدیلی کی پیش گوئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے چونکا دینے والی پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پچیس برسوں میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ظاہری شکل اور شخصیت میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، اور سال 2050 تک وہ موجودہ دور سے بالکل مختلف نظر آئیں گے۔
تحقیق میں یاد دلایا گیا ہے کہ پچیس برس قبل سوشل میڈیا کا خیال ہی اجنبی تھا، لیکن آج یہ جدید معاشرت کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ شوبز اور کھیل کی نامور شخصیات سمیت عام لوگ بھی اپنی شہرت اور آمدنی کے لیے انہی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نسبتاً چھوٹے انفلوئنسرز نے بھی ثابت کیا ہے کہ محض چند کامیاب ویڈیوز کس طرح انہیں مالی طور پر مستحکم بنا دیتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کی چمک کے پیچھے کچھ ایسے رجحانات بھی چھپے ہیں جو مستقبل میں ظاہری طور پر پریشان کن تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
اسی تحقیق کے دوران ماہرین نے ’’Ava‘‘ نامی ایک مجازی ماڈل تخلیق کیا ہے جو 2050 کی سوشل میڈیا اسٹار کی ممکنہ جھلک دکھاتی ہے۔ اس ماڈل کی پشت اور گردن مستقل طور پر فون اور لیپ ٹاپ پر جھکنے کے باعث نمایاں طور پر ٹیڑھی دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ اسکرین ٹائم اور ایل ای ڈی کی تیز روشنی کے نتیجے میں اس کی جلد مدہم ہوچکی ہے اور آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے نمایاں ہیں۔ بار بار فِلرز کے استعمال نے چہرے کی ساخت کو غیر فطری حد تک نوکیلا بنا دیا ہے جبکہ بالوں پر کیمیکلز اور مصنوعی مصنوعات کے مسلسل استعمال سے جگہ جگہ گنج پن بھی جھلک رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق Ava محض ایک تصوراتی ماڈل نہیں بلکہ موجودہ دور کے انفلوئنسرز کے طرزِ زندگی کا عکس ہے۔ طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ مستقبل کی تصویر دراصل آج کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ایک وارننگ ہے کہ حسن و شہرت کی دوڑ اور حد سے زیادہ ڈیجیٹل سرگرمیاں جسمانی و ذہنی صحت پر کس قدر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
تحقیق نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ Ava کی یہ حالت موجودہ عادات و رویوں کا منطقی نتیجہ ہے، اور اگر فوری طور پر طرزِ زندگی نہ بدلا گیا تو آج کے انفلوئنسرز کل کے لیے اسی تصویر کی جیتی جاگتی مثال بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ