پاکستان سفارتی محاذ پر اچھا کھیل رہا ہے، معیشت مضبوط کرنا ہوگی؛ ایکسپریس فورم
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
لاہور:
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، پاکستان سفارتی محاذ پر اچھا کھیل رہا ہے، پاک بھارت جنگ سے ہماری عالمی ساکھ بہتر ہوئی، اس وقت نریندر مودی منظر سے غائب جبکہ پاکستان کو امریکا، چین، سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، سفارتی کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستانی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں، یہاں معدنیات ، تیل اور تجارت کی آفر دی تاہم اگر ٹرمپ کے مقاصد پورے نہ ہوئے تو معاملات مختلف ہوں گے، پاکستان کو خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، پاک سعودی عرب معاہدے سے پاکستان کی طاقت میں اضافہ ہوا، ایران نے بھی اس معاہدے کی تعریف کی ہے جس سے اسرائیل اور بھارت میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان خیالات کاا ظہار ماہرین امور خارجہ نے ’’وزیراعظم کے دورہ امریکا‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا، فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیے، سابق سفارتکار جاوید حسین نے کہاکہ اس صدی کی سب سے بڑی ڈویلپمنٹ امریکا اور چین کی مخالفت ہے، اگر امریکا نے چین کو پر امن راستہ نہ دیا تو ٹکرائو ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ پاک بھارت جنگ میں جیت سے ہماری ساکھ بہتر ہوئی تاہم ہمیں معاشی طور پر خود مختار ہونا ہوگا، پاکستان کیلئے سب سے اہم چین کیساتھ تعلقات ہیں جنہیں مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
ماہر امور خارجہ ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا کہ پاک بھارت جنگ جیت کر پاکستان نے دنیا بھر میں خود کو ایک مضبوط ریاست اور طاقت کے طور پر منوایا ہے، پاکستان نے اس ساکھ سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا۔
ماہر امور خارجہ ڈاکٹر اعجاز بٹ نے کہا کہ پاکستان نے ڈونلڈٹرمپ کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھا کھیلا ہے، انہیں نوبل انعام کیلئے نامزد کیا، تیل، معدنیات اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی آفر دی، امریکا معدنیات پر چین کی اجارہ داری ختم کرنا چاہتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کسی اچھی تجارتی ڈیل کیلئے پاکستان کو بطور ڈھال استعمال کر رہا ہے، ہمیں سمجھداری سے چلنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔