پاکستان اور روسی افواج کی مشترکہ مشق، عسکری تعلقات بڑھانے کاعزم
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-30
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں 15 ستمبر کو شروع ہونے والی مشترکہ فوجی مشق دروڑبہ- VIII جاری ہے جو 27 ستمبر کو ختم ہوگی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مشترکہ فوج مشق میں پاکستان کی جانب سے تقریب کے مہمان خصوصی وائس چیف آف جنرل اسٹاف تھے اور روسی سینئر فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے دستوں نے مشق کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیار کا مظاہرہ کیا۔ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس مشق کا مقصد انسداد دہشت گردی آپریشنز میں استعمال ہونے والی ڈرلز، طریقہ کار اور تکنیک کو بہتر بنانا تھا، جس میں ڈرون وارفیئر، شہری علاقوں میں لڑائی اور بارودی سرنگوں کے تدارک پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس موقع پر دونوں دوست ممالک کے مابین تاریخی عسکری تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔