سعودی عرب کیساتھ عسکری تعلقات کے لیے خدمات، جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اعزاز سے نوازا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ عزم چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور سعودی افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی کے درمیان سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
پاک سعودی تعلقات، خصوصاً عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کو ’شاہ عبدالعزیز میڈل آف آنر‘ (ایکسِلینٹ کلاس) سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا برونائی کا سرکاری دورہ
دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر گفتگو کی۔
سعودی عسکری قیادت نے پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنرل ساحر شمشاد سعودی عرب عسکری تعلقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عسکری تعلقات
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔