پی ایس ایل ٹیم مالکان کا مطالبہ تسلیم، بورڈ کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کے درمیان ایک اہم اجلاس آج نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فرنچائز مالکان نے پی ایس ایل مینجمنٹ سے ملاقات کے دوران اس اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔
اجلاس میں پی ایس ایل 2026 اور 2027 سے متعلق مختلف خدشات اور تحفظات پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ پی سی بی حکام ان معاملات پر اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر تمام چھ فرنچائزز، بشمول ملتان سلطانز، کو مدعو کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فرنچائز مالکان نے کمرشل معاملات، ایونٹ ونڈو اور ای وائی ایویلیوایشن رپورٹ پر بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی دو سالہ ٹائٹل اسپانسرشپ معاہدے کے طریقہ کار پر بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔
پی سی بی نے پی ایس ایل میں مزید دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ لیگ کے دس سال مکمل ہونے پر اس ماہ فرنچائزز کے ساتھ نیا معاہدہ طے پائے گا۔
چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر کے مطابق، آئندہ سیزن میں پی ایس ایل میچز کا دائرہ لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی سے بڑھا کر فیصل آباد اور پشاور تک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی ٹیموں کے لیے نومبر میں ٹینڈر جاری کیے جائیں گے، اور دلچسپی رکھنے والے شہروں کے ناموں میں سے اپنی ٹیم کا نام خود منتخب کر سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔