data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کے درمیان ایک اہم اجلاس آج نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فرنچائز مالکان نے پی ایس ایل مینجمنٹ سے ملاقات کے دوران اس اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔

اجلاس میں پی ایس ایل 2026 اور 2027 سے متعلق مختلف خدشات اور تحفظات پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ پی سی بی حکام ان معاملات پر اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر تمام چھ فرنچائزز، بشمول ملتان سلطانز، کو مدعو کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فرنچائز مالکان نے کمرشل معاملات، ایونٹ ونڈو اور ای وائی ایویلیوایشن رپورٹ پر بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی دو سالہ ٹائٹل اسپانسرشپ معاہدے کے طریقہ کار پر بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔

پی سی بی نے پی ایس ایل میں مزید دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ لیگ کے دس سال مکمل ہونے پر اس ماہ فرنچائزز کے ساتھ نیا معاہدہ طے پائے گا۔

چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر کے مطابق، آئندہ سیزن میں پی ایس ایل میچز کا دائرہ لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی سے بڑھا کر فیصل آباد اور پشاور تک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی ٹیموں کے لیے نومبر میں ٹینڈر جاری کیے جائیں گے، اور دلچسپی رکھنے والے شہروں کے ناموں میں سے اپنی ٹیم کا نام خود منتخب کر سکیں گے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی