ایران نےبرطانیہ،فرانس اور جرمنی میں تعینات اپنے سفیروں کو واپس بلالیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نےبرطانیہ،فرانس اور جرمنی میں تعینات اپنے سفیر فوری طور پر واپس بلا لیے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ایران نے ہفتے کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے تنازع کے سلسلے میں مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔
تہران نے ای تھری کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے قبل اپنے پہلے عملی اقدام کے طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے طلب کیا، یہ اقدام اس احتجاج کے طور پر کیا گیا کہ ان ممالک نے ’’ٹرگر میکانزم‘‘ کا عمل شروع کیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب روس اور چین کی جانب سے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بحالی کو مؤخر کرنے کی کوشش جمعہ کے روز 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ناکام ہو گئی۔ پاکستان سمیت اس مسودہ قرارداد کی صرف 4 ممالک نے حمایت کی، جس کے بعد ایران پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا راستہ ہموار ہو گیا۔
تہران نے سہ ملکی یورپی گروپ ای تھری کے ذریعے ٹرگر میکانزم کے فعال ہونے کو غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فرانس اور
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔