Juraat:
2026-07-24@03:23:28 GMT

جنگ جیت چکے، نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

جنگ جیت چکے، نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

 

بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی،پہلے ہی بتادیا تھا پاکستان بیرونی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا،مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی ،اقوام متحدہ اجلاس میں شہباز شریف کا پُرتپاک استقبال

وزیر اعظم شہباز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاک بھارت جنگ کے حوالے سے کہا کہ جنگ جیت چکے، بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کی صدر کو 80ویں اجلاس کی صدارت پرمبارکباد دی، وزیر اعظم نے کہا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی، انتونیو گوتریس کی جرات مندانہ قیادت قابل تعریف ہے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں، عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے، انسانی بحران بڑھتے جارہے ہیں، دہشتگردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، گمراہ کن پروپیگنڈا اورجعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بابائے قوم کے وژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پرمبنی ہے، ہم مکالمے اورسفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے خبردارکیا تھاکہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا، یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے جب مئی میں پاکستان کو مشرقی محاذ سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے ہمارے شہروں پر حملے کیے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا، مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا، ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھوکی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو اپنی مہارت سے زیرکیا اور بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کیعظیم جانبازوں اور شہدا کے ورثا کوسلام پیش کرتیہیں، ہمارے شہدا کینام ہمیشہ عزت اور وقار کیساتھ زندہ رہیں گے، شہدا کی ماؤں کا حوصلہ ہمارے راستیمنور کرتا ہے، ہمارے شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کی قیام امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہمارے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اپنے آپ میں اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اس پانی پر اپنے 24 کروڑ عوام کے حق کا دفاع کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی کوئی بھی خلاف ورزی ہمارے لیے اعلان جنگ ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گے اور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی ظلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا ہیجبکہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا غزہ میں فوری اور اسی وقت جنگ بندی ہونی چاہیے، پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔وزیر اعظم نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے آگے ایک دیوار ہے جس نے دنیا کو دہشتگردی سے بچایا ہوا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، انصاف اور ترقی کی حمایت جاری رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار