ہائے ہائے یہ کیا سُن رہی ہوں؟ پشاور جلسے میں علی امین کیخلاف نعرے بازی پر عظمیٰ بخاری کا طنز
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کے جلسے میں وزیراعلیٰ کے پی کیخلاف احتجاج اور نعرے بازی پر ردعمل دیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے پشاور میں صوبائی حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے جلسے میں پی ٹی آئی کارکنان کے وزیراعلیٰ کیخلاف احتجاج، نعرے بازی اور بوتلیں اچھالنے پر کہا کہ بدتمیزی کی دوائی خود استعمال کرکے مزہ تو آرہا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ ہائے ہائے یہ کیا سن رہی ہوں؟ جوتیوں میں دال بٹنا شروع ہوگئی ہے۔
ہائے ہائے یہ کیا سن رہی ہوں میں،جوتیوں میں دال بٹنی شروع
بدتمیزی کی دوائی خود استعمال کرکے مزا تو آرہا ہوگا ???????????? pic.
انہوں نے لکھا کہ ساری صوبائی حکومت، پورے پاکستان سے حاضریاں لگوانے کے باوجود جلسہ گاہ میں حاضری کے پرسوز مناظر ہیں، میں کچھ نہیں کہہ رہی، آپ خود دیکھیں کر 15 سے 20 لاکھ لوگ گن لیں۔
عظمیٰ بخاری نے جلسہ گاہ میں علی امین کے خلاف نعرے لگنے پر ہنسنے والے ایموجی بھی شیئر کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔