پشاور جلسے میں کارکنوں کی وزیراعلیٰ کیخلاف نعرے بازی، بوتلیں اچھال دیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور میں عمران خان کی ہدایت پر منعقد کیا جانے والا پی ٹی آئی کا جلسہ بدنظمی کا شکار ہوگیا۔
وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈاپور جلسے سے خطاب کرنے کیلیے اسٹیج پر پہنچے تو پنڈال میں موجود کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی اور وزیراعلیٰ کا خطاب سننے سے انکار کیا۔
کارکنوں نے وزیراعلیٰ کے خلاف احتجاج کیا اور پھر پنڈال میں بوتلیں اچھالنی شروع کردیں جبکہ اس دوران کارکنان گنڈا پور نامنظور اور تقریر نہیں نہیں کے نعرے لگاتے رہے۔
کارکنوں کے احتجاج کے باوجود وزیراعلی کی تقریر جاری رکھی جبکہ اس بدنظمی کے دوران مرد کارکنان خواتین کے پنڈال میں گھس آئے اور پولیس انہیں روکنے میں ناکام رہی۔
پنڈال میں بدنظمی کی وجہ سے خواتین کارکنان پنڈال چھوڑ کر چلی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنڈال میں
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔