اثاثوں کی تفصیلات اورآمدن کیے مطابق گوشوارےجمع نہ کروانیوالےہوجائیں ہوشیار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سٹی42: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اثاثوں اور آمدن میں تضاد رکھنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سینکڑوں افراد کے اثاثوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے، جس میں خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بظاہر شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہے ہیں مگر انکم ٹیکس گوشواروں میں اس کا عکس موجود نہیں۔
مریم نواز کی بہاولنگر میں سیلاب متاثرین سے ملاقاتیں، ساہیوال میں بس منصوبے کا افتتاح
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ایسے افراد کی مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا ہے جو بنگلوں، لگژری گاڑیوں، قیمتی زیورات اور دیگر مہنگی اشیاء کی سوشل میڈیا پر نمائش کرتے ہیں۔ سوشل پلیٹ فارمز پر موجود تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے ان افراد کی شناخت کی جا رہی ہے جن کے طرزِ زندگی اور جمع کروائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے ٹیکس ریٹرنز کا رواں سال کے گوشواروں سے موازنہ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا حقائق چھپانے کی کوشش کو بے نقاب کیا جا سکے۔
شہر میں چینی کی قلت، گھریلو صارفین پریشان
حکام کے مطابق پراپرٹی، قیمتی گاڑیوں، بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثہ جات سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں جیسے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، نادرا اور اسٹیٹ بینک سے بھی مدد لی جائے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آمدن سے زائد اخراجات اور لائف اسٹائل کی بنیاد پر نوٹسز بھیجنے کا سلسلہ جلد شروع کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔