کوئٹہ:

بلوچستان میں گورنر ہاؤس کے باہر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے 3 طلبہ اور 2 اہل کار زخمی ہو گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ضلع ژوب میں گورنر ہاؤس (جانان ہاؤس) کے باہر سکیورٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار کی رائفل سے غلطی سے فائرنگ کے نتیجے میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ژوب کے 3 طلبہ اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق طلبہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے تعلیمی مسائل کے سلسلے میں ملاقات کے لیے آئے تھے۔ پولیس ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فائرنگ ایس ایچ او کے گن مین کی رائفل سے ہوئی، تاہم زخمیوں کی حالت تسلی بخش اور خطرے سے باہر ہے۔

فائرنگ کا واقعہ آج جمعۃ المبارک دوپہر 12 بجے کے قریب پیش آیا، جب گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے 3 طلبہ جو اپنی شناخت ظاہر کر کے گورنر ہاؤس میں داخلے کی اجازت مانگ رہے تھے، اس دوران سکیورٹی چیک کے دوران اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی چل گئی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ ایس ایچ او کے گن مین کی غیر ارادی غلطی کا نتیجہ تھی، جس کی وجہ رائفل کی تکنیکی خرابی یا ہینڈلنگ میں غفلت بتائی جا رہی ہے۔ گولیاں لگنے سے 3 طلبہ کے بازو اور ٹانگوں پر زخم آئے جب کہ 2 پولیس اہل کار معمولی طور پر زخمی ہوئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ژوب منتقل کیا گیا۔

اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرحمن نے بتایا کہ تینوں طلبہ کی سرجری مکمل ہو چکی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ 2 پولیس اہلکاروں کے زخم ہلکے ہیں اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

زخمی طلبہ کی عمریں 18 سے 21 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں اور وہ گورنر سے کالج کی نئی عمارت اور وظائف کے حوالے سے ملاقات کا ارادہ رکھتے تھے۔

دوسری جانب گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمی طلبہ سے اسپتال میں ملاقات کی اور ان کے مکمل علاج کا خرچہ اٹھانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ ہم زخمی طلبہ کو ہر ممکن تعلیمی اور مالی امداد فراہم کریں گے۔ علاوہ ازیں گورنر نے سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت اور ہتھیاروں کی باقاعدہ چیکنگ کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

دریں اثنا واقعے کے بعد گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے طلبہ اور مقامی رہنماؤں نے جانان ہاؤس کے باہر احتجاج کیا، تاہم گورنر کی معذرت اور فوری معاوضے کے اعلان کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ہتھیاروں کی باقاعدہ انسپکشن اور تربیتی پروگرامز کو لازمی کیا جائے۔

یاد رہے کہ رواں سال ژوب میں سکیورٹی اہلکاروں سے متعلق یہ دوسرا واقعہ ہے، جس سے سکیورٹی پروٹوکولز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے زخمی طلبہ کے خاندانوں سے رابطہ کر کے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے گورنر ہاؤس کے سکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد  متعلقہ اہلکار کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار گورنر ہاؤس اہلکار کی طلبہ اور ہاؤس کے کے باہر کے بعد

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔

کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔

پولیس کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود میں بھینس کالونی کے قریب ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت جاوید عرف راول کے نام سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور ماضی میں 15 سے زائد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔

دوسری کارروائی اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کی گئی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

زخمی ملزم سہیل کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اکرم کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں

کراچی، پولیس اور ایس آئی یو کے ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے، 1 ڈاکو ہلاک، 3 زخمی حالت میں گرفتار

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر بہادرآباد تھانے کی حدود میں کنگری ہاؤس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو گرفتار کیے گئے جن میں ایک زخمی ملزم جان شیر بھی شامل ہے۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔

ایک اور کارروائی فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس نے جیل چورنگی کے قریب مشترکہ طور پر کی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی