Jasarat News:
2026-06-03@03:56:04 GMT

مسلم ممالک صرف اعلانات اور بیانات تک محدود

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250928-03-3

 

جاوید الرحمن ترابی

او آئی سی رابطہ گروپ نے پہل گام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں کیے گئے جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ناممکن قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کا اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا جس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کی جبکہ آذربائیجان، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور نائجر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کشمیری عوام کے نمائندوں نے بھارتی زیر ِ قبضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دی۔ ادھر، فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عالمی فیصلوں کے پس منظر میں سعودی عرب نے فرانس، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو، اینڈورا اور سان مارینو کی جانب سے فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعتراف کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ اعلان ریاض اور پیرس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کیا گیا جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا تھا۔ علاوہ ازیں، انڈونیشیا نے غزہ میں قیام امن کے لیے 20 ہزار سے زائد امن فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا جبکہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے قریب دھماکے اور ڈرون پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اب تک 11 دھماکے جہازوں کے قریب ہوئے جبکہ 9 کشتیوں کو فلیش بینگز سے نشانہ بنایا گیا۔ فلوٹیلا کے قریب دھماکوں اور فلیش بینگ حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مسلم ممالک صرف اعلانات اور بیانات پر ہی اکتفا نہ کریں اور آگے بڑھ کر ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مسلم ممالک کی نوجوان نسل اپنے حکمرانوں سے اسی لیے بیزار دکھائی دیتی ہے کہ وہ عالمی منظر نامے پر کٹھ پتلیوں سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر یہ حکمران اپنے ملکوں کے اندر استحکام چاہتے ہیں تو انہیں عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کشمیر اور فلسطین میں مظالم کا شکار اپنے بہن بھائیوں کی فوری مدد کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے، بصورتِ دیگر نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی ان کے لیے ناقابل ِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ وفاقی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ستمبر کے آخری دنوں میں طلب کیا گیا ہے، جس میں حکومت پاک‘ سعودی دفاعی معاہدے کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لے گی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اس حوالے سے پالیسی بیان دیں گے۔ اب یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جائیں۔

پاک سعودی دفاعی معاہدے کی اہمیت اپنی جگہ فلسطین کی آزادی اور کشمیر کی آزادی کی اپنی اہمیت ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا۔ تو معاہدے کس قدر متحرک ہوگا؟ کہا جارہا ہے کہ اس معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں ہے۔ تاہم، حکومت اسے زیادہ پائیدار بنانے اور اس کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر پارلیمنٹ میں لا رہی ہے۔ یہ ان معاہدوں میں شامل ہے جن پر وسیع تر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر پورے ملک میں کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ پاکستان تحریک انصاف، جو عام طور پر حکومتی اقدامات کی مخالفت کرتی ہے، اس کے بانی عمران خان نے بھی جیل سے اپنے پیغام میں اس معاہدے کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک‘ سعودی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر رابطے مضبوط اور بحال رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لیے سعادت کی بات ہے۔ اس قومی اتفاق رائے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ قومی اتفاق رائے اس معاہدے کی کامیابی اور اس کے دور رس اثرات کی ضمانت ہے۔ یہ اتحاد پاکستانی قوم کی مشترکہ سوچ اور عظیم مقاصد کے حصول کے لیے یکسوئی کی عکاسی کرتا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مستحکم کرے گا۔

جاوید الرحمن ترابی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے اس معاہدے کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے