Jasarat News:
2026-07-24@09:01:27 GMT

مشتاق احمد خان اور قافلہ صمود؛ ضمیر کی گواہی

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250928-03-6

 

میر بابر مشتاق

دنیا کی تاریخ میں ایسے لمحات بار بار نہیں آتے جب کوئی ایک قافلہ، کوئی ایک صدا، کوئی ایک کردار پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ آج امت مسلمہ کی تاریخ کے اس نازک موڑ پر ایک قافلہ عزم و صبر کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ یہ قافلہ نہ دولت کے لالچ میں ہے، نہ شہرت کا طلبگار ہے، اور نہ ہی طاقت کے سامنے جھکنے کے لیے نکلا ہے۔ یہ قافلہ صمود ہے، مزاحمت ہے، سچائی کی گواہی ہے۔ اس قافلے میں شامل وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ وقت کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ کون مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور کون ظالموں کے ساتھ سودے بازی کرتا ہے۔ انہی میں سے ایک نمایاں کردار سابق سینیٹر مشتاق احمد خان ہیں، جو جماعت اسلامی کے رہنما اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکری و روحانی فرزند ہیں۔ ان کی موجودگی اور قیادت اس قافلے کو نہ صرف وزن بخشتی ہے بلکہ اسے ایک فکری اور تحریکی تسلسل سے جوڑتی ہے۔

غزہ کی سرزمین اس وقت انسانی تاریخ کے بدترین المیے سے گزر رہی ہے۔ لاکھوں انسان بے گھر ہیں، ہزاروں شہید ہو چکے ہیں، بچے ملبے تلے دبے ہیں، اور دنیا کی بڑی طاقتیں محض تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ جو انصاف اور امن کے قیام کی دعویدار ہے، وہ عالمی ادارے جو انسانی حقوق کی دہائیاں دیتے ہیں، وہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ظلم دیکھ رہے ہیں مگر ان کے لب سلے ہوئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے بیش تر حکمران اور سیاستدان خاموش تماشائی ہیں، جب بیش تر مسلم ممالک کے رہنما عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے اپنی زبانوں پر تالے ڈالے ہوئے ہیں، ایسے وقت میں یہ قافلہ صمود اعلان کرتا ہے: ’’ہم غزہ کے ساتھ ہیں، چاہے جو بھی ہو جائے‘‘۔

سینیٹر مشتاق احمد خان کا یہ قدم محض سیاسی ایکٹویزم نہیں بلکہ ایک فکری وراثت کی تجدید ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی پوری زندگی یہ پیغام دیا کہ مسلمان صرف اپنی سرحدوں کے اندر محدود نہیں بلکہ پوری امت ایک جسم ہے۔ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست کا محور یہی ہے کہ وہ امت کو ایک وحدت کے طور پر دیکھتی ہے۔ مشتاق احمد خان اسی فکر کے ترجمان ہیں۔ ان کا قافلہ میں شامل ہونا دراصل یہ اعلان ہے کہ مودودی کا فکری چراغ آج بھی جل رہا ہے اور یہ امت کے ضمیر کو روشنی دے رہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے سیاسی افق پر آج وہی کامیاب سمجھا جاتا ہے جو طاقتور کے ساتھ کھڑا ہو۔ مگر تاریخ نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ اصل کامیابی طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے میں ہے۔ مشتاق احمد خان اور قافلہ صمود کے یہ مسافر جانتے ہیں کہ ان کا راستہ آسان نہیں، انہیں رکاوٹوں، دھمکیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کبھی سفری پابندیاں، کبھی ڈرون حملوں کا خطرہ، کبھی بیماری اور تھکن، مگر ان کے عزم میں لرزش نہیں آتی۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سفر صرف غزہ تک نہیں بلکہ یہ سفر تاریخ کے اوراق تک ہے۔ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ قافلہ زندہ مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

پاکستان کی سیاست میں ایسے کردار بہت کم ملتے ہیں جو ذاتی فائدے اور مفاد سے اوپر اٹھ کر امت کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کے دل غزہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمارے بچے غزہ کے بچوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، ہماری مائیں فلسطینی ماؤں کے آنسوؤں کو اپنا سمجھتی ہیں، ہمارے نوجوان فلسطینی نوجوانوں کو اپنا بھائی مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قافلہ صمود پاکستانی عوام کی آواز بھی ہے اور امت مسلمہ کے ضمیر کی گواہی بھی۔

یہ کالم محض ایک شخصیت کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ ایک فکر کو اُجاگر کرنے کے لیے ہے۔ آج اگر مشتاق احمد خان غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل سیاست کیا ہوتی ہے۔ سیاست اقتدار کے ایوانوں میں سودے بازی کا نام نہیں، بلکہ سیاست کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت، حق کی حمایت اور ظلم کے خلاف مزاحمت ہے۔ یہی وہ سیاست ہے جو سید مودودی نے سکھائی اور یہی وہ سیاست ہے جو جماعت اسلامی آج تک جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر امت مسلمہ کے تمام حکمران اور سیاستدان اس قافلے کی طرح اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کے نقشے پر ظلم کا یہ باب زیادہ دیر باقی نہ رہے۔ اسرائیل کی جارحیت اور امریکا کی پشت پناہی اس وقت تک مضبوط ہے جب تک امت کے حکمران کمزور اور خاموش ہیں۔ جیسے ہی امت کی قیادت بیدار ہوگی، ظلم کی بنیادیں ہلنے لگیں گی۔ قافلہ صمود اسی بیداری کی ایک کرن ہے، جو اندھیروں میں روشنی پھیلا رہی ہے۔

آج کے دور میں جب میڈیا پر جھوٹ کی یلغار ہے، جب طاقتور اپنے ظلم کو قانون کا لبادہ پہنا کر پیش کر رہے ہیں، ایسے وقت میں یہ قافلہ اور سینیٹر مشتاق احمد خان کا کردار ایک زندہ دلیل ہے کہ ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نہ بکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی جھکتے ہیں۔ یہ کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امت مسلمہ ابھی مکمل مردہ نہیں ہوئی۔ ابھی بھی ضمیر کی گواہی باقی ہے، ابھی بھی سچائی کی صدا زندہ ہے، ابھی بھی عزم و صمود کے چراغ بجھے نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس قافلے کے قدموں کو استقامت دے، ان کے حوصلوں کو بلند کرے، ان کی حفاظت فرمائے، اور ان کے سفر کو کامیاب و سرخرو لوٹائے۔ یہ دعا صرف ایک قافلے کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ہے۔ کیونکہ جب یہ قافلہ کامیاب ہوگا تو دراصل یہ امت مسلمہ کی کامیابی ہوگی۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ مظلوموں کے حق میں ہوتا ہے۔ ظالم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ رسوا ہوتا ہے۔ آج اسرائیل اور اس کے حامی طاقتور نظر آتے ہیں، مگر آنے والی نسلیں انہیں مظالم کی علامت کے طور پر یاد رکھیں گی۔ اس کے برعکس آج یہ قافلہ چھوٹا لگتا ہے، کمزور دکھائی دیتا ہے، مگر آنے والی نسلیں اسے عزیمت اور سچائی کی علامت کے طور پر یاد کریں گی۔ یہی اصل کامیابی ہے، یہی اصل عزت ہے، اور یہی وہ وراثت ہے جو سینیٹر مشتاق احمد خان اور ان جیسے بہادر کردار اپنی امت کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینیٹر مشتاق احمد خان جانتے ہیں کہ قافلہ صمود نہیں بلکہ کے طور پر یہ قافلہ کی گواہی اس قافلے ابھی بھی کے ساتھ کے لیے غزہ کے امت کے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف