محکمہ داخلہ پنجاب میں انسدادِ منی لانڈرنگ و کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سیکرٹری داخلہ نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے پنجاب کے اقدامات بارے بریفنگ دی۔ چیئرمین اے ایم ایل، سی ایف ٹی و سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے محکمہ داخلہ میں اجلاس کی صدارت کی۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ میں انسدادِ منی لانڈرنگ و کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر چیئرمین مشتاق سکھیرا اور ڈی جی احسان صادق نے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سے ملاقات کی۔ سیکرٹری داخلہ نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے پنجاب کے اقدامات بارے بریفنگ دی۔ چیئرمین اے ایم ایل، سی ایف ٹی و سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے محکمہ داخلہ میں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پنجاب کی ایف اے ٹی ایف پلان پر کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ محکمہ داخلہ، اوقاف، کوآپریٹو، بورڈ آف ریونیو، سکول ایجوکیشن، ہیلتھ اینڈ پاپولیشن، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، سوشل ویلفیئر اور پراسیکیوشن کے سیکرٹریز اور اعلیٰ عہدیداروں نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ چیئرمین مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ پنجاب نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں مؤثر کردار ادا کیا، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے ضروری اقدامات میں پنجاب کا موثر کردار رہا۔ چیئرمین مشتاق سکھیرا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں عالمی قواعد اور ملکی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے، پنجاب کے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک میں بہتری سے استحکام آیا ہے۔ اجلاس میں اوقاف، ٹرسٹ اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹس کی مانیٹرنگ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کابینہ نے وقف، ٹرسٹ اور کوآپریٹو سوسائٹیز منیجمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری دی۔ ایکٹ دیگر صوبوں کیلئے بھی رول ماڈل کا کردار ادا کرے گا، اجلاس میں مالیاتی جرائم کے خاتمے کیلئے حکومت پنجاب کے اقدامات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے بھی بریفنگ دی گئی۔ مشتاق سکھیرا نے کہا کہ پاکستان کو ٹریفکنگ آف پرسنز کی ٹیئر ٹو واچ لسٹ سے نکالنے کیلئے پنجاب کے اقدامات فیصلہ کُن رہے، انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے محکمہ لیبر، پولیس، سوشل ویلفیئر اور چائلڈ پروٹیکشن کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب نے اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے، جامع رپورٹ وفاق کو دی جائے گی۔ پنجاب چیریٹیز کمیشن کی کارکردگی پر بھی اظہارِ اطمینان کیا گیا۔سی ای او کرنل شہزاد نے بتایا کہ پنجاب چیریٹیز کمیشن نے اب تک 8 ہزار سے زائد این جی اوز کو رجسٹر کیا، این جی اوز کی مانیٹرنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور آؤٹ ریچ سسٹم کو بہتر بنایا گیا ہے، پنجاب کا چیریٹیز کمیشن چاروں صوبوں میں سب سے مؤثر قرار دیا گیا۔ چیئرمین نے این جی اوز کے ٹیکس اور بینک اکاؤنٹس کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ مشتاق سکھیرا نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشنز میں پنجاب کا کردار فیصلہ کن رہا، پنجاب نے مؤثر مانیٹرنگ رجیم نافذ کرکے دیگر صوبوں کیلئے مثال قائم کی، اصلاحی اقدامات کو جاری رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی روک تھام کیلئے پنجاب کے اقدامات مشتاق سکھیرا نے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ محکمہ داخلہ اجلاس میں بریفنگ دی پنجاب کا کہ پنجاب
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،