برطانیہ کی پاکستان میں آئی پی اصلاحات کے نفاذ کیلئے مطالبے کی تائید
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوآئی سی سی آئی) نے پاکستان کے انٹیلکچوئل پراپرٹی (آئی پی)نظام پر برطانیہ کے ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی برطانیہ کی حکومت کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔یہ رپورٹ ملک میں فوری طورپر آئی پی کے نفاذ کیلئے او آئی سی سی آئی کے دیرینہ مطالبے کی تائید کرتی ہے۔ یوکے انٹیلکچوئل پراپرٹی آفس اور ڈپارٹمنٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ کی تیارکردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آئی پی کا نفاذ پاکستان کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 2023میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوںاور ٹریڈ مارک کی جعل سازی سے پاکستان کی معیشت کو 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او ا ئی سی سی ا ئی ا ئی پی کے کرتی ہے نفاذ کی کے نفاذ کیلئے ا
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔