بھارتی کپتان سوریا کمار کا مشتاق احمد سے مصافحہ، ’اب ان کی دیش بھگتی کہاں گئی‘
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں بھارت کی بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی کے بعد ایک دلچسپ لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے بنگلہ دیش کے اسپن بولنگ کوچ اور پاکستان کے سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد سے مصافحہ کیا۔
میچ کے اختتام پر ہونے والے اس مصافحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس پر صارفین کی جانب سے مختلف اور دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ کئی صارفین نے اس عمل پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملایا، لیکن ایک پاکستانی کوچ سے مصافحہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپورٹس مین شپ نظرانداز: بھارتی ٹیم نے ایک بار پھر پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملایا
سوشل میڈیا صارف نواز چوہدری نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوریا کمار یادیو اور بھارتی ٹیم کا دہرا معیار ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سابق کرکٹر مشتاق احمد سے ہاتھ ملایا، شاید انہیں لگا کہ مشتاق احمد کا تعلق کسی اور ملک سے ہے۔
Double standards of Surya Kumar Yadav & Indian team as he shakes hands with Pakistan's former cricketer & Bangladesh spin bowling coach Mushtaq Ahmed.
— Er Nawaz Choudhary (@N143ch) September 24, 2025
فرید خان نے لکھا کہ سوریا کمار یادو نے پاکستان کے سابق اسپنر اور بنگلادیش کے موجودہ کوچ مشتاق احمد سے مصافحہ کیا ہے اب ان کی دیش بھگتی کہاں گئی؟ وہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
Hypocrite Surya Kumar Yadav shaking hands with former Pakistan spinner and current Bangladesh coach Mushtaq Ahmed ????????????????????
Where’s his desh bakhti now? He’s exposed ‼️ pic.twitter.com/mIowRHD6YA
— Farid Khan (@_FaridKhan) September 25, 2025
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اچھا لگا کہ بھارت کے کپتان سوریا کمار یادو نے گزشتہ رات بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے بعد پاکستان کے سابق اسپن کنگ مشتاق احمد سے مصافحہ کیا۔
Good to see India’s captain Suryakumar Yadav shaking hands with former Pakistani spin king Musthaq Ahmed after last night’s game against Bangladesh. #INDVBAN pic.twitter.com/ARb8IstMrS
— Nibraz Ramzan (@nibraz88cricket) September 25, 2025
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارتی کپتان نے ٹاس کے بعد پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا، میچ کے بعد بھی بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔
اس سے قبل گروپ مرحلے کے میچ میں بھی دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر ہاتھ نہیں ملایا تھا، پھر بعد ازاں میچ کے اختتام پر بھی بھارتی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہاتھ ملانے میں حرج نہیں تھا، سابق بھارتی کپتان اظہرالدین کی بھارتی ٹیم پر شدید تنقید
ایشیا کپ 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے میچ میں ہاتھ نہ ملانے کے تنازع پربھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر شدید تنقید کی ہے۔
اظہر الدین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ جب آپ میچ کھیل رہے ہوتے ہیں تو کھیل اخلاق و آداب کے مطابق ہونا چاہیے، مجھے معلوم نہیں کہ اس معاملے میں کیا مسئلہ تھا، میں واقعی سمجھ نہیں پا رہا کہ ہاتھ نہ ملانا کیوں ضروری سمجھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشیا کپ ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلہ بھارت بمقابلہ بنگلہ دیش سوریا کمار یادیو مشتاق احمد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلہ بھارت بمقابلہ بنگلہ دیش سوریا کمار یادیو مشتاق احمد مشتاق احمد سے مصافحہ پاکستان کے سابق بھارتی کپتان بھارتی ٹیم سوریا کمار نے پاکستان بنگلہ دیش ایشیا کپ ہاتھ نہ سے ہاتھ کہا کہ دیش کے کے بعد میچ کے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان