چینی کرنسی میں بانڈ کا اجرا: کیا پاکستان ڈالر پر انحصار کم کر سکے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
حکومت پاکستان نے قرضوں کے خطرات کو کم کرنے اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے دسمبر 2025 سے قبل چینی کرنسی رینمنبی (RMB) میں 250 ملین امریکی ڈالر کے مساوی پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہی ہے تاہم پانڈا بانڈ اجرا کی منظوری دونوں ممالک میں ابھی زیر التوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان رواں سال جون تک پانڈا بانڈ جاری کرے گا، وفاقی وزیر خزانہ
پانڈا بانڈ چین کی انٹر بینک بانڈ مارکیٹ میں نجی سطح پر جاری کیا جائے گا اور صرف منتخب ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس کی مدت 3 سال ہوگی جب کہ متوقع شرح سود 3 سے 4 فیصد سالانہ رکھی گئی ہے۔
یہ پانڈا بانڈ پروگرام مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے برابر ہوگا جس کی یہ پہلی قسط ہے۔ اگر یہ اجرا کامیاب رہا تو آئندہ سالوں میں مزید اقساط بھی جاری کی جائیں گی۔
پانڈا بانڈ کے اجرا میں مالیاتی مشیران اور انڈر رائٹرز پر مشتمل ایک کنسورشیم شامل ہے جس میں چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن اور حبیب بینک لمیٹڈ شامل ہیں۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینکا س بانڈ کی 95 فیصد تک یعنی 285 ملین ڈالر تک کی ضمانت دیں گے۔ اس کے عوض ان اداروں کو سالانہ ضمانتی فیس، اپ فرنٹ فیس اور پراسیسنگ فیس ادا کی جائے گی۔
مزید پڑھیے: وفاقی وزیر خزانہ کا یوآن پر مبنی ’پانڈا بانڈز‘ رواں سال متعارف کرانے کا اعلان
یہ دراصل ایسا بانڈ ہوتا ہے جو کوئی غیر ملکی حکومت یا ادارہ چین کی مالیاتی منڈی میں چینی کرنسی میں جاری کرتا ہے۔ اس کا مقصد بغیر ڈالر یا دیگر مغربی کرنسیوں پر انحصار کے چین کے اندرونی سرمایہ کاروں سے رقوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کو مختلف فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ چونکہ بانڈ چینی کرنسی میں جاری کیا جا رہا ہے اس لیے زرمبادلہ کے دباؤ میں کمی ہو گی۔ اس سے ڈالر پر انحصار کم ہوگا اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بھی کم ہو گا۔
پاکستان اب صرف مغربی مالیاتی اداروں پر انحصار کے بجائے مشرقی منڈیوں خصوصاً چین سے بھی سرمایہ حاصل کرے گا۔ اس کے علاوہ چونکہ اس بانڈ پر متوقع شرحِ سود دیگر عالمی قرضوں کی نسبت کم ہے جس سے قرضوں کی لاگت میں کمی ممکن ہو گی اور شرح سود میں بھی کمی ممکن ہو سکے گی۔
پاکستان کا 47 فیصد بیرونی قرضہ کثیرالطرفہ مالیاتی اداروں سے ہے جبکہ صرف 8 فیصد قرض یوروبانڈز اور سکوک کی صورت میں ہے جو ماضی میں 11 فیصد تک تھا۔ مختصر مدتی قرضوں کے بڑھتے رجحان کے باعث ریفنانسنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ایسے میں طویل مدتی اور مستحکم ذرائع جیسے پانڈا بانڈز اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
پانڈا بانڈ کے ملکی معیشت کو فوائد کے حوالے سے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کار راجہ کامران نے کہا کہ پانڈا بانڈز کے اجرا سے پاکستان پہلی بار یوآن پر مشتمل چینی مارکیٹ میں داخل ہوگا۔
راجہ کامران نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف چین کے ساتھ مالیاتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ پاکستان کی قرضہ لینے کی مارکیٹ میں تنوع بھی پیدا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمارے قرضہ جاتی پورٹ فولیو میں ڈائیورسیفکیشن لائے گا اور چین کے ساتھ مالی لین دین کو فروغ دے گا۔
راجہ کامران کے مطابق اگر یورپی یا امریکی مالیاتی ادارے کسی وجہ سے تعاون سے گریز کریں تو چین کی مارکیٹ پاکستان کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان مالی سال 26-2025 کے دوران چینی پانڈا بانڈ لانچ کرنا چاہتا ہے، وزیر خزانہ
معاشی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی صحافی مہتاب حیدر کے مطابق پاکستان کے چینی مارکیٹ میں داخلے کے بعد ابتدائی مرحلے میں تقریباً 250 ملین ڈالر مالیت کی ٹرانزیکشن نومبر 2025 میں متوقع ہے۔
مہتاب حیدر نے کہا کہ چین کے پاس بڑے مالی ذخائر موجود ہیں جبکہ پاکستان کو آنے والے مہینوں میں مختلف بانڈز کی ادائیگیوں کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 2 بڑی بانڈ ادائیگیاں کرنی ہیں جن میں ایک یلو بانڈ کی ادائیگی 30 ستمبر کو اور دوسری اپریل میں 1 ارب ڈالر کی میچورٹی شامل ہے۔ ان میں سے 12 ملین ڈالر رول اوور کیے جا چکے ہیں تاہم بقیہ تقریباً 14 ملین ڈالر کی میجر ادائیگیاں تاحال باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی بانڈ کی شرح سود (انٹرسٹ ریٹ) اور میچورٹی پیریڈ جیسے عوامل ابھی زیر غور ہیں تاہم امید کی جا رہی ہے کہ یہ شرح دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں کے مقابلے میں کم ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ یوروبانڈ یا سکوک بانڈز کی موجودہ مارکیٹ میں شرح سود 10 فیصد سے بھی زائد ہے جبکہ چینی بانڈ کے ذریعے پاکستان کو ممکنہ طور پر 3 سے 4 فیصد کے قریب ریٹ مل سکتا ہے، جو کہ معیشت کے لیے زیادہ مؤثر اور پائیدار آپشن ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا چینی مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ
مہتاب حیدر نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی عالمی مارکیٹوں میں رسائی محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے میں چین کے ساتھ مالی تعاون پاکستان کو ادائیگیوں کے بوجھ سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔
سینیئر معاشی رپورٹر شعیب نظامی نے وی نیوز کو بتایا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو پانڈا بانڈز کی پیشکش کرے گا جن میں سرمایہ کاری پر حکومت پاکستان کی جانب سے منافع دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان بانڈز سے حاصل ہونے والی رقوم کو ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کیا جائے گا اور پہلا پانڈا بانڈ دسمبر میں متوقع ہے لیکن اس سے قبل حکومت کو اپنی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرنی ہوگی تاکہ بہتر شرائط پر فنڈنگ ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: معاشی استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجا ہونا ہوگا، وزیر خزانہ
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ بانڈز سنہ 2028 تک 3 مراحل میں جاری کیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں 25 سے 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز رواں مالی سال کے دوران جاری کیے جائیں گے۔ حاصل شدہ رقم کا ایک حصہ یوروبانڈز کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے گا جس میں 30 ستمبر کو 50 کروڑ ڈالر اور اپریل میں 1 ارب ڈالر کی ادائیگی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ڈوئچے بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور دیگر بینکوں پر مشتمل کنسورشیم سے قرض لیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: پاکستان کا پہلا گرین سکوک بانڈ لانچ، معیشت کی بحالی پر وزیر خزانہ کا اظہار اطمینان
ان کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بینک آف چائنا اور انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹر بینک بانڈ مارکیٹ پاکستان پاکستانی معیشت پانڈا بونڈ چین چینی کرنسی رینمنبی گرین سکوک بانڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹر بینک بانڈ مارکیٹ پاکستان پاکستانی معیشت پانڈا بونڈ چین چینی کرنسی گرین سکوک بانڈ سرمایہ کاروں پانڈا بانڈز پاکستان کو مارکیٹ میں چینی کرنسی کہ پاکستان پانڈا بانڈ ملین ڈالر نے کہا کہ بانڈز کی انہوں نے جاری کی بانڈ کے جائے گا ڈالر کے گا اور چین کے کے لیے کیا جا
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر