اسرائیل 48 گھنٹے میں صمود فلوٹیلا پر بڑا حملہ کر سکتا ہے، گریٹا تھنبرگ کا ویڈیو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسرائیل 48 گھنٹے میں صمود فلوٹیلا پر بڑا حملہ کر سکتا ہے، گریٹا تھنبرگ کا ویڈیو پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز
یروشلم(آئی پی ایس )ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل اگلے 48 گھنٹوں کے اندر صمود فلوٹیلا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہا ہے پر بڑا فوجی حملہ کر سکتا ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا: حملے ہمارا مشن نہیں روک سکتے۔ ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔فلوٹیلا، جس میں مختلف ممالک کے امدادی جہاز شامل ہیں، غزہ پٹی کے لیے خوراک، طبی سامان اور دیگر ہنگامی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس بحری قافلے کو ذاتی اور بین الاقوامی نگرانی اور حفاظت فراہم کرنے کے لیے اٹلی اور اسپین کے بحری جہاز اس کے ہمراہ جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جھڑپ یا ناکہ بندی کے دوران امدادی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کا مقصد انسانی بحران کے دوران بنیادی ضروریات پہنچانا اور بین الاقوامی توجہ کھینچنا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ماضی میں ایسے قافلوں کو قومی سلامتی کے حوالہ سے سکیورٹی خطرات تصور کیا ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، جو صورتِ حال کو کشیدہ اور حساس بناتی ہیں۔
مستقل طور پر نشر ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اب تک اسرائیلی حکام کی جانب سے اس مخصوص خطرے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب فلوٹیلا کے سربراہان اور شریک کارکنان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مشن سے دستبردار نہیں ہوں گے اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور ہنگامی ضوابط کے تحت غزہ کی طرف روانہ رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر مملکت کا حالیہ دورہ چین، جدید لڑاکا جے 35 بارے بریفنگ لی: سلیم مانڈوی والا صدر مملکت کا حالیہ دورہ چین، جدید لڑاکا جے 35 بارے بریفنگ لی: سلیم مانڈوی والا بھارتی فضائیہ نے اڑتے تابوت کہلائے جانیوالے MiG-21 طیاروں سے بلآخر جان چھڑالی دوکانداروں ، کاروباری شخصیات کو ناجائز تنگ کرنے اور فائر سیفٹی کے نام پر تنگ کرنے بار ہوش ربا انکشافات ،، ایڈیشنل ڈائریکٹر عماد... سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں ہے، خواجہ آصف ہائیکورٹ ججز کی کارکردگی جانچنے کیلئے رولز، محفوظ فیصلہ 90 روز میں لازمی سنانے کی تجویز جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر بھارتی میڈیا کے سوال پر وزیراعظم کا کرارا جواب
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں