بلوچستان میں فوجی آپریشنز، طاقت کا استعمال دانشمندی نہیں، مولانا ہدایت الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان میں مسائل کے انبار ہیں، جبکہ حکومت خاموش تماشائی اور عسکری ادارے طاقت کے استعمال میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ فوجی آپریشنز، طاقت کا استعمال دانشمندی نہیں۔ عوام مسائل کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نوجوان بے روزگار، بارڈر بند ہیں۔ نہ معیاری تعلیم ہے، نہ علاج کی سہولیات موجود ہیں۔ حکومت خاموش تماشائی، عسکری ادارے طاقت کے استعمال میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں عوام پریشان نوجوان مایوس ہو ئگے ہیں۔ حقوق کی فراہمی، عوام کی حکمرانی، دیانتداری ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پارلیمنٹ تک رسائی کی راہ میں ہر الیکشن میں رکاؤٹیں کھڑی کی گئیں۔ سازشی ٹولہ ناکام اور جماعت اسلامی کامیاب ہوگی۔ ہمیں ووٹ ملیں یا نہ ملیں، لیکن بلاتفریق رنگ، نسل و مذہب عوامی خدمت جاری رکھیں گے۔ عوام میں بھی شعور آ رہا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ کون سی جماعت ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔