ہم نے "صمود" امدادی قافلے کی حفاظت کیلئے اپنی بحریہ تعینات کر دی، سپین
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں پیڈرو سانچیز کا کہنا تھا کہ امید ہے كہ صیہونی رژیم، "صمود" امدادی بیڑے پر اپنے مجرمانہ اور غیر قانونی حملوں کو نہیں دہرائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج سپین کے وزیر اعظم "پیڈرو سانچیز" نے غزہ کی جانب جانے والے صمود امدادی بیڑے پر اسرائیل کے دوبارہ حملے کے بارے میں اشارتاً انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار CNN کی میزبان "کرسٹیئن امان پور" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صیہونی رژیم "صمود" امدادی بیڑے پر اپنے مجرمانہ اور غیر قانونی حملوں کو دوبارہ نہیں دہرائے گی۔ تاہم انہوں نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ ہم نے غزہ کے لئے جانے والے اس بیڑے کی حفاظت کے لئے اپنے بحری جہاز تعینات کئے ہیں تا کہ اسرائیلی فوج کے حملے کے امکان کو کم کیا جا سکے۔ البتہ ہمیں امید ہے کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔