data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرین غذائیت کی تازہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دہی کا باقاعدہ استعمال نہ صرف صحت کے لیے مفید ہے بلکہ یہ انسانی عمر میں اضافے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

سائنسی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ دہی میں موجود مفید بیکٹیریا یا پروبائیوٹکس انسانی صحت پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دہی آنتوں کے اندر موجود مائیکرو بایوم یعنی صحت مند جراثیم کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

یہ توازن ہمارے نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ایک فعال مدافعتی نظام نہ صرف بیماریوں کے خلاف ڈھال بنتا ہے بلکہ بڑھاپے کے اثرات کو بھی دیر تک روکے رکھتا ہے۔

دل کی صحت پر بھی دہی کا مثبت اثر واضح ہے۔ ماہرین کے مطابق دہی کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ان دونوں عوامل کا براہِ راست تعلق دل کی بیماریوں سے ہے، اس لیے دہی دل کے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دہی صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہی میں موجود پروبائیوٹکس دماغی دباؤ اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ اثرات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہی نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی تندرست رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دہی کے استعمال کے اینٹی ایجنگ فوائد بھی بتائے جاتے ہیں۔ ایک صحت مند آنتی نظام جسم میں سوزش (inflammation) کو کم کرتا ہے اور مدافعتی نظام کو بہتر کارکردگی کے قابل بناتا ہے۔ چونکہ بڑھاپے کے عمل کی بڑی وجہ سوزش اور کمزور مدافعتی نظام ہوتا ہے، اس لیے دہی کو روزمرہ غذا میں شامل کرنا عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔

اگرچہ دہی کو براہِ راست ’عمر بڑھانے والی جادوئی غذا‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن اس کے استعمال کے بالواسطہ فوائد جیسے بہتر مدافعتی نظام، مضبوط دل اور ذہنی سکون لمبی اور صحت مند زندگی کے امکانات کو ضرور بڑھاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مدافعتی نظام ہے کہ دہی

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف