انسانیت کی فلاح و نجات اسوہ نبی ؐپر عمل میں ہے، ڈاکٹرواسع شاکر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت الفلاح اسلامی تہذیبی مرکز کراچی میں منعقدہ جلسہ سیرت النبی ؐو نعتیہ مشاعرہ میں ممتاز نیرولوجسٹ اور نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ انسانیت آج بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، مگر انسانیت کی فلاح و نجات صرف اور صرف اسوہ نبی ؐ پر عمل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐ کی بعثت کا مقصد اللہ کے دین کا نفاذ تھا۔ آپ ؐنے اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ نظام کو قائم کر کے دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل پیش کیا۔ آج مغرب اور یورپ کے پاس سکون و راحت کا کوئی نظام موجود نہیں، یہ صرف اسلامی نظام ہی ہے جو انسانیت کو سکون فراہم کر سکتا ہے۔تقریب کی صدارت ممتاز بزرگ شاعر قمر وارثی نے کی، جبکہ معتمد عمومی جمعیت الفلاح قمر محمد خان نے خطبہ استقبالیہ اور صدر جمعیت الفلاح قیصر خان نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر خلیل اللہ فاروقی نے انجام دیے۔ تلاوت قرآن حکیم کی سعادت سینئر صحافی سید وزیر علی قادری نے حاصل کی۔ صدر مشاعرہ قمر وارثی نے کہا کہ ’’نعت گوئی باعث سعادت ہے اور یہ اعزاز ہے کہ ہم نبی کریم ؐ کے امتی ہیں۔نعتیہ مشاعرہ میں ہدیہ نعت پیش کرنے والوں میں یامین وارثی، اختر سعیدی، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر، فرخ اظہار، عتیق الرحمن عتیق، ڈاکٹر اورنگ زیب رہبر، نعیم انصاری، آسی سلطانی، عطاء محمد تبسم، احمد سعید خان، الحاج نجمی، نظر فاطمی، فخراللہ شاد، شہاب شائق، اکرم راضی، ذوالفقار حیدر پرواز اور دیگر شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔