دنیا میں امن کا قیام صرف اسلامی نظام سے ممکن ہے، شیخ عثمان فاروق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250922-08-5
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیخ عثمان فاروق نے کہا ہے کہ دنیا میں اس وقت تک حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک رحمۃ للعالمین ? کا لایا ہوا اسلامی نظام نافذ اور غالب نہ ہو جائے۔ حضور اکرم ؐ نے سرزمین عرب پر اسلام کا مثالی نظام نافذ کرکے ثابت کردیا کہ یہی نظام انسانیت کے لیے تا قیامت رحمت و نجات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ؐ نے معاشرے سے قتل و غارتگری، لوٹ مار، چوری، عورتوں پر ظلم، غلامی اور سود کے نظام کا خاتمہ کیا اور عدل و انصاف، انسانی مساوات، وراثت کے قانون اور اخلاقی اوصاف کو رواج دیا۔ سود سے پاک معیشت قائم کی اور جہاد کے ذریعے باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کا نظام دیا۔ خلفائے راشدین نے بھی اسی نظام کو آگے بڑھایا، مگر خلافت کے بعد ملوکیت نے انسانی حقوق سلب کیے اور آج بھی یہی باطل نظام رائج ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے زیر اہتمام دو روزہ محفل پیغام رحمۃ للعالمین ؐ کے پہلے دن خطاب کرتے ہوئے کیا ‘اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع گڈاپ عرفان احمد، نائب امیر خالد صدیقی، سیکرٹری جنرل ابوالخیر اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔شیخ عثمان فاروق نے کہا کہ آج مملکت خداداد پاکستان میں حکمران غلامانہ ذہنیت کے تحت عوام کے نام پر سودی قرضے اور امداد لے کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، جب کہ عوام مہنگائی اور قرضوں کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام مصطفی ؐکا نفاذ امت مسلمہ اور پاکستان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اتحاد اور یکجہتی سے جدوجہد کرکے ملک میں اسلامی نظام رائج کرنا ہوگا، یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم ؐ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعل راہ ہے، اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ صرف ربیع الاول ہی نبی اکرم ? کا مہینہ نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے وابستہ ہے۔ قرآن و سنت کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے اور اسی پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ محفل میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ