میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر کی خدمت اور اس کے بہتر مستقبل کیلیے اسی طرح سے کام جاری رہے گا، شہر کی 106 سڑکوں پر کام جاری ہے اور جلد عوام بہتری محسوس کریں گے۔

کراچی کے خالق دنیا حال میں معروف شاعر رئیس امروہی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ بی آر ٹی گرین لائن منصوبے اور ایم اے جناح روڈ کی بدحالی لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں بی آر ٹی گرین لائن کو اجازت نامہ دیا گیا تھا اور تب سے آج تک ایم اے جناح روڈ کی حالت تباہ حال ہے، ہم نے بی آر ٹی انتظامیہ سے وقت مانگا ہے تاکہ منصوبے کی موجودہ صورت حال پر وضاحت لی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب شہر میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو سوال میئر سے کیا جاتا ہے لیکن اصل ذمہ دار اداروں کو بھی سامنے آنا ہوگا۔

میئر نے کہا کہ ایم کیو ایم والوں کو یہ طے کرنا ہوگا وہ کس کے ساتھ ہیں اور انہیں اپنے وژن پر نظرِ ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر تنقید نہیں کریں گے تو کیا چھولے بیچیں گے۔

میئر نے ایک بار پھر کہا کہ27 ارب روپے ان کے ٹاؤنز کو اب تک دیئے گئے ہیں، اگلے ہفتے ایک اور انکشاف کروں گا میری جنگ منافقت کیخلاف ہے، منعم ظفر کی بنائی ہوئی سڑک بیٹھ جاتی ہے اس کا جواب دی، انہوں نے کبھی اس پر بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ کراچی کی 106 سڑکوں پر فی الوقت کام جاری ہے اور عوام جلد بہتری محسوس کریں گے، حافظ صاحب بھی شاید اپنے نو ٹاؤنز کے چیئرمینوں سے ناراض ہیں جنہوں نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔

میئر کراچی نے شہر میں چوری اور نشے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چرسی تاریں اور لائٹیں چوری کر کے لے جاتے ہیں جس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام اب سچ اور جھوٹ کے فرق کو سمجھ چکے ہیں اور کراچی کو مسائل سے نکالنے کے لیے کھری بات کرنا ہوگی۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور ان کی سیاسی، جمہوری اور قیادتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاول نے نوجوان قیادت کی ایک مضبوط مثال قائم کی ہے، ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، عوامی حقوق کے تحفظ اور سویلین بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ جہاں جہاں درخت کاٹے جا رہے ہیں، وہ عمل غلط ہے،کراچی جیسے بڑے شہر میں درختوں کی کٹائی کسی صورت قابل قبول نہیں بلکہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے پر زور دینا چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہر کی خدمت اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے سفر جاری و ساری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کام جاری انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم