کراچی کی 106 سڑکوں پر کام جاری ہے جلد عوام کو بہتری محسوس ہوگی، میئر مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر کی خدمت اور اس کے بہتر مستقبل کیلیے اسی طرح سے کام جاری رہے گا، شہر کی 106 سڑکوں پر کام جاری ہے اور جلد عوام بہتری محسوس کریں گے۔
کراچی کے خالق دنیا حال میں معروف شاعر رئیس امروہی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ بی آر ٹی گرین لائن منصوبے اور ایم اے جناح روڈ کی بدحالی لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں بی آر ٹی گرین لائن کو اجازت نامہ دیا گیا تھا اور تب سے آج تک ایم اے جناح روڈ کی حالت تباہ حال ہے، ہم نے بی آر ٹی انتظامیہ سے وقت مانگا ہے تاکہ منصوبے کی موجودہ صورت حال پر وضاحت لی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب شہر میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو سوال میئر سے کیا جاتا ہے لیکن اصل ذمہ دار اداروں کو بھی سامنے آنا ہوگا۔
میئر نے کہا کہ ایم کیو ایم والوں کو یہ طے کرنا ہوگا وہ کس کے ساتھ ہیں اور انہیں اپنے وژن پر نظرِ ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر تنقید نہیں کریں گے تو کیا چھولے بیچیں گے۔
میئر نے ایک بار پھر کہا کہ27 ارب روپے ان کے ٹاؤنز کو اب تک دیئے گئے ہیں، اگلے ہفتے ایک اور انکشاف کروں گا میری جنگ منافقت کیخلاف ہے، منعم ظفر کی بنائی ہوئی سڑک بیٹھ جاتی ہے اس کا جواب دی، انہوں نے کبھی اس پر بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ کراچی کی 106 سڑکوں پر فی الوقت کام جاری ہے اور عوام جلد بہتری محسوس کریں گے، حافظ صاحب بھی شاید اپنے نو ٹاؤنز کے چیئرمینوں سے ناراض ہیں جنہوں نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
میئر کراچی نے شہر میں چوری اور نشے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چرسی تاریں اور لائٹیں چوری کر کے لے جاتے ہیں جس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اب سچ اور جھوٹ کے فرق کو سمجھ چکے ہیں اور کراچی کو مسائل سے نکالنے کے لیے کھری بات کرنا ہوگی۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور ان کی سیاسی، جمہوری اور قیادتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاول نے نوجوان قیادت کی ایک مضبوط مثال قائم کی ہے، ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، عوامی حقوق کے تحفظ اور سویلین بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جہاں جہاں درخت کاٹے جا رہے ہیں، وہ عمل غلط ہے،کراچی جیسے بڑے شہر میں درختوں کی کٹائی کسی صورت قابل قبول نہیں بلکہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے پر زور دینا چاہیے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہر کی خدمت اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے سفر جاری و ساری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کام جاری انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔