کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کا نظام دیگر شہروں میں بھی نافذ کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کا نظام دیگر شہروں میں بھی نافذ کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کی کارکردگی سے متعلق پہلا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران بشمول ایڈیشنل آئی جیز، ڈی جی سیف سٹی، مختلف ڈپارٹمنٹس کے ڈی آئی جیز اور اے آئی جیز نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد حال ہی میں کراچی میں نافذ کیے گئے جدید ٹریفک نظام کے اثرات، کارکردگی اور عوامی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے شرکا کو فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کے مختلف پہلوؤں پر جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 27 اکتوبر سے یہ نظام باضابطہ طور پر نافذ کیا جا چکا ہے، جسے عوامی حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
شہریوں نے اس نظام کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کے مزید مؤثر نفاذ کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کا بنیادی مقصد شفافیت کو فروغ دینا، رشوت ستانی کا خاتمہ اور ٹریفک قوانین کی خودکار نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ کراچی میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اس سہولت کو سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
شرکا نے تجویز پیش کی کہ جہاں سیف سٹی منصوبہ ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا، وہاں مصروف شاہراہوں اور اہم مقامات پر نصب سرکاری کیمروں کے ذریعے بھی یہ نظام آزمایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف تکنیکی اور انتظامی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری ہے، اس لیے اس خلاف ورزی پر سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید ہدایت دی کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی فیس لیس ای چالان نظام کو جلد نافذ کیا جائے، مصروف شاہراہوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب یقینی بنائی جائے اور ٹریفک سہولت مراکز کا قیام ہر ضلع میں ممکن بنایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن “1915” کو پورے صوبے میں وسعت دی جائے تاکہ شہری بروقت رہنمائی حاصل کر سکیں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوامی سطح پر مقررہ رفتار، سیٹ بیلٹ کے استعمال اور دیگر ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف حادثات میں کمی لانا ہے بلکہ شہریوں میں قانون کی پاسداری کا رجحان بھی پیدا کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین میں بھی
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔