ممکن ہے صدارتی انتخابات پھر سے لڑوں، سابق امریکی نائب صدر کاملا ہیرس
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
امریکا کی سابق نائب صدر کاملا ہیرس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل ہو سکتی ہیں۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ہیرس نے کہا، میں ابھی ختم نہیں ہوئی، اور ممکن ہے کہ ایک دن صدر بنوں۔ یہ ان کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے پر غور کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا کملا ہیرس اور ہیلری کلنٹن سے سیکیورٹی کلیئرنس واپس لینے کا اعلان
کاملا ہیرس نے 2024 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں شکست کھائی تھی، جب صدر جو بائیڈن نے انتخابی مہم سے صرف 107 دن قبل دستبردار ہو کر ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اپنی کتاب 107 ڈیز میں ہیرس نے بائیڈن کے فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ نظام کو اندر سے بدلنا ممکن نہیں۔
انٹرویو میں ہیرس نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بھانجیاں اپنی زندگی میں ایک خاتون صدر ضرور دیکھیں، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا، ممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا صدارتی انتخابات کاملا ہیرس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا صدارتی انتخابات کاملا ہیرس کاملا ہیرس ہیرس نے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔