ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے ’’آن لائن ای لرنرز پرمٹ‘‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ شہری بغیر کسی دشواری کے گھر بیٹھے با آسانی اپنا لرنرز پرمٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کی آسانی اور سہولت کے لیے جدید اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
مجسٹریٹ کافوڈاتھارٹی کی قبضےمیں لی گئی اشیاملزم کوسپرداری پردینےکاآرڈرکالعدم قرار
گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد نے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی مدت میں 7 روز کی توسیع کی تھی۔
آئی جی اسلام آباد نے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہری 7 اکتوبر تک ہر صورت اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں۔
اس سے قبل آئی جی اسلام آباد کی زیرصدارت پبلک سروس ڈلیوری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے اور ٹریفک نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے تھے۔
ایف آئی اے کراچی زون کی کارروائی ؛حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزم گرفتار
ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا تھا کہ آئی جی نے لائسنس کے اجرا کے عمل کو مزید تیز کرنے اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔