اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-4
اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی ۔زلزلے کا مرکز افغانستان کے کوہ ہندوکش ریجن میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 195 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔گہرائی زیادہ ہونے کے باعث زلزلہ مختصر دورانیے کا تھا، مگر کئی علاقوں میں اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد ،راولپنڈی ، پشاور،چترال، لوئر دیر، سوات، مالاکنڈ ڈویژن، رستم، چارسدہ، شبقدر اور تنگی میں بھی محسوس کیے گئے۔ شہری خوف کے باعث گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ماہرین کے مطابق کوہ ہندوکش ریجن زلزلہ خیز علاقہ ہے، جہاں اس نوعیت کے جھٹکے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔