data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: آباد ہاؤس میں تعمیراتی مٹیریل کی جاری نمائش کے دوسرے روز صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے نمائش کا دورہ کیا اور مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا،  اس موقع پر ایس بی سی اے کے ڈی جی مذمل حسین ہالیپوٹو، آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی سمیت بلڈرز اور نمائش کے وزیٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔

صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں آباد کو کامیاب ایکسپو کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی صنعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، آباد کے ممبران کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے مؤثر قوانین بنائے۔

سعید غنی نے بتایا کہ کرپشن کے خاتمے اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے،  غیر قانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی،  اگر اپروول کے باوجود کسی عمارت کو غیر قانونی قرار دیا جائے تو اس میں خریدار قصور وار نہیں ہوتا کیونکہ عام شہری بلڈر پر بھروسہ کرتا ہے۔

انہوں نے نسلہ ٹاور اور پویلین کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عمارتیں گرانے کے بجائے خالی کرائی جانی چاہیے تھیں کیونکہ اس طرح کے فیصلوں نے تعمیراتی صنعت میں بداعتمادی پیدا کی اور سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ زمینوں کی نیلامی اور ٹیکس سے متعلق قوانین پر بھی کام جاری ہے جبکہ کے ڈی اے اور سی ایل اے کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ سعید غنی کے مطابق سندھ میں تعمیرات کے پیمانے دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، اسی لیے قوانین میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی فائلیں ہر دور میں بنتی رہتی ہیں لیکن الزامات کی حقیقت اکثر مختلف نکلتی ہے۔ انہوں نے خورشید شاہ کے خلاف الزامات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان پر 300 اکاؤنٹس کا الزام لگایا گیا لیکن حقیقت میں صرف تین نکلے۔

سعید غنی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا جانے والا نظام قرار دیا اور کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔

اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ ماضی میں آباد کی نمائش ایکسپو سینٹر میں منعقد کی جاتی تھی، تاہم اس بار ان ہاؤس ایکسپو کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی کمپنیوں کو بھی کاروباری مواقع فراہم ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش کی فیس فی کمپنی صرف ایک لاکھ روپے رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیوں کو شرکت کا موقع مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 12 ملین گھروں کی کمی ہے اور اگر تعمیراتی صنعت کو فعال کیا جائے تو لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں زمینوں کی نیلامی باقاعدگی سے ہوتی ہے، لیکن سندھ میں یہ عمل نظر نہیں آتا حالانکہ متعلقہ قانون موجود ہے۔

نمائش میں تعمیراتی صنعت سے وابستہ 22 کمپنیوں نے اپنی مصنوعات پیش کیں، جن میں کم قیمت پر معیاری مٹیریل کی نمائش نے وزیٹرز اور سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تعمیراتی صنعت نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری