زمینوں پرقبضہ مافیاکےخلاف بڑاقدم، نئے قانون کا ڈرافٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
علی رامے:پنجاب حکومت کا زمینوں پرقبضہ مافیاکےخلاف بڑاقدم، اینٹی لینڈگریبنگ ایکٹ 2025کاڈرافٹ تیارکرلیاگیا۔
ڈرافٹ قانون کابینہ کی منظوری کےبعداسمبلی میں پیش ہوگا، ہرضلع میں ڈپٹی کمشنرکی سربراہی میں کمیٹی بنانےکی تجویز دی گئی، کمیٹی 90دن میں قبضےکےکیس کافیصلہ کرےگی۔
زمینوں کے مقدمات کیلئے خصوصی ٹریبونل بنانے کی تجویز دی گئی، قبضہ مافیا کیلئے5 سے 10 سال قید اور جرمانہ تجویز کیا گیا۔
فخر آؤٹ نہیں تھا لیکن۔۔۔ گرین شرٹس کیپٹن نے میدان کے باہر اعلیٰ کرکٹ دکھا دی
جھوٹی درخواست دینے والوں کے لیے بھی سزا تجویز کی گئی ، ٹریبونل فوری طور پر مالک کو قبضہ واپس دلا سکے گا، پرانےقوانین میں مقدمات برسوں چلتےرہے، متاثرہ افرادکوریلیف نہیں ملتاتھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔