پنجاب کی جیلوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، سنگین وارداتوں کے 240 مقدمات حل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی اور جیل خانہ جات کے ڈیٹا انٹیگریشن کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، فرانزک سائنس ڈیٹابیس کی مدد سے قتل، ڈکیتی، ریپ اور راہزنی سمیت 240 اندھے مقدمات میں ملزمان کا تعین کیا گیا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فرانزک سائنس اتھارٹی کے پاس اس وقت 4 لاکھ 40 ہزار قیدیوں کے فنگر پرنٹس کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ مزید قیدیوں کے بایومیٹرک ڈیٹا کو شامل کرنے کے لیے پریزن افسران کی خصوصی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ کیوں؟ محکمہ داخلہ نے بتادیا
تربیتی سیشن میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد بھی موجود تھے۔
پنجاب بھر کی جیلوں سے آئے 120 افسران کو قیدیوں کے فنگر پرنٹس اور 3 مختلف زاویوں سے تصاویر محفوظ کرنے کے حوالے سے عملی تربیت دی گئی۔ سیکرٹری داخلہ کے مطابق پنجاب کی تمام جیلوں سے قیدیوں کے فنگر پرنٹس روزانہ فرانزک سائنس اتھارٹی کو موصول ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گجرات ڈسٹرکٹ جیل سے 100 خطرناک قیدیوں کو لاہور جیل کیوں منتقل کیا گیا؟
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جیلوں کو ٹیکنالوجی ہب میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں قیدیوں کی اصلاح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ جرائم کی بیخ کنی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تربیتی سیشن کے دوران جیلوں میں نصب پی ایف ایس اے سسٹم کے عملی استعمال کا ڈیمو بھی دیا گیا جس کا سیکرٹری داخلہ نے جائزہ لیا اور کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والے افسران میں اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر انہوں نے فرانزک سائنس اتھارٹی کی نئی ٹریننگ لیبارٹری اور بلڈنگ کا بھی دورہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب تفتیش جیل قیدی مقدمات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تفتیش جیل مقدمات فرانزک سائنس اتھارٹی قیدیوں کے پنجاب کی کی جیلوں
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔