ایف آئی اے کا یوٹرن، شبر زیدی کے خلاف مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
ایف آئی اے کا یوٹرن، شبر زیدی کے خلاف مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 31 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ایف آئی اے نے یوٹرن لیتے ہوئے سابق چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کے لیے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم کراچی زون کو خط لکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق درج ایف آئی آر نمبر 32 کے حوالے سے لیگل کمنٹس، سی ایف آر کے عنوان سے مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔ مراسلہ ایف آئی اے ڈائریکٹر کراچی زون کی اجازت سے ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل کے نام جاری کیا گیا ہے جس میں عدالت میں مقدمہ منسوخ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔
مراسلے میں مقدمہ منسوخ کرنے یا سی کلاس کرنے کی اجازت بھی طلب کرلی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مقدمہ میں نامزد شبر زیدی، ایف بی آر حکام اور نجی بینک ملازمین کا نام نکالا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمحمد عامر ابوظہبی ٹی10 لیگ میں کوئٹہ کیولری کے کپتان مقرر پنجاب بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے حد بندیوں کیلئے ڈھائی ماہ کی مہلت دیدی ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم، تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ نہ ہوسکا کالعدم ٹی ایل پی کے ٹکٹ ہولڈرز کا پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کو تسلیم کیا ہے،پاکستان چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،سی ڈی اے اور سپارکو کے درمیان بہتر شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے سیٹلائٹ امیجز کی...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔