چین اور ایران کا ایرانی جوہری مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
چین اور ایران کا ایرانی جوہری مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز
چین ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو بہت اہمیت دیتا ہے، چینی وزیر خا رجہ
بیجنگ (سب نیوز) چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی۔جمعرات کے روز
وانگ ای نے کہا کہ چین ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ رواں سال ستمبر میں صدر شی جن پھنگ اور صدر مسعود پزشکیان نے ایک کامیاب ملاقات کی جس میں چین ایران تعلقات کے فروغ کے لیے اہم اتفاق رائے پایا گیا اور اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی گئی۔ اگلے سال چین اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
چین دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے، مشترکہ طور پر قومی ترقی اور احیاء کو فروغ دینے، باہمی فائدہ مند تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ چین ایران جامع تزویراتی شراکت داری کو اعلیٰ سطح پر پہنچایا جا سکے ۔
فریقین نے ایرانی جوہری مسئلے پر مفصل تبادلہ خیال کیا ۔
وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین نے ہمیشہ ایرانی جوہری معاملے پر ایک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھا ہے۔ ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل میں موجودہ تعطل عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں ہے۔ چین ایران کی جانب سے حال ہی میں جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی تجدید کی تعریف کرتا ہے، اور ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
چین امید رکھتا ہے کہ تمام فریق مکالمہ اور رابطہ برقرار رکھیں گے اور ایرانی جوہری مسئلے کو مذاکرات کے دھارے میں واپس لائیں گے۔ عراقچی نے ایرانی جوہری مسئلے پر منصفانہ موقف برقرار رکھنے اور مثبت کردار ادا کرنے پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران برابری اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تمام فریقوں کے ساتھ رابطے اور تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ظہران ممدانی کی تاریخی جیت، ٹرمپ نے یوٹرن لے کر ہتھیار ڈال دیے امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کردیا “حقائق نے چین کے پانچ سالہ منصوبے کی کامیابی کو ثابت کیا ہے” کشور محبوبانی آٹھویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نے دنیا کو کھلے پن کی یقین دہانی فراہم کی ہے، چینی میڈیا چین سمندری معاملات پر بے بنیاد الزامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، چینی وزارت خارجہ چائنا میڈیا گروپ کے شانشی بیورو کا افتتاح کر دیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایرانی جوہری مسئلے پر اور ایران
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔