آن لائن ہیکرز کا اراکینِ پارلیمنٹ پر دھاوا، لاکھوں روپے ہتھیانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی میں انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن ہیکرز نے متعدد سینیٹرز سے لاکھوں روپے فراڈ کے ذریعے ہتھیائے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ ایک منظم گروہ فون کالز اور واٹس ایپ ہیکنگ کے ذریعے اراکینِ پارلیمنٹ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: جی میل صارفین کے لیے انتباہ: 18 کروڑ سے زائد پاس ورڈز ہیکرز کے ہاتھ لگ گئے
متاثرین میں سینیٹر فلک ناز چترالی، عرفان صدیقی، قادر مندوخیل اور دلاور خان شامل ہیں۔ ہیکرز نے دلاور خان سے ساڑھے 8 لاکھ، جبکہ فلک ناز چترالی سے 2 قسطوں میں 5 لاکھ روپے فراڈ کیے۔
عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کا واٹس ایپ ہیک کرکے جاننے والوں سے ان کے نام پر رقوم منگوائی گئیں، لیکن 2 سال گزرنے کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: روس کی سرکاری ایئر لائن نے سائبر حملے کے بعد درجنوں پروازیں منسوخ کر دیں
کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اراکینِ پارلیمنٹ محفوظ نہیں تو عام شہریوں کا ڈیٹا کس قدر غیر محفوظ ہے، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن ہیکرز اراکین پارلیمنٹ دلاور خان سینیٹر سیف اللہ ابڑو سینیٹر فلک ناز چترالی عرفان صدیقی، قادر مندوخیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آن لائن ہیکرز اراکین پارلیمنٹ دلاور خان سینیٹر سیف اللہ ابڑو سینیٹر فلک ناز چترالی عرفان صدیقی قادر مندوخیل
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔