Daily Sub News:
2026-07-24@01:21:26 GMT

چار سینیٹرز کا سائبر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

چار سینیٹرز کا سائبر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف

چار سینیٹرز کا سائبر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس)
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایک کے بجائے چار چار سینیڑز کے فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹرز اپنے ساتھ ہونے والے فراڈز پر پھٹ پڑے۔ سینیٹر بلال خان مندوخیل، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ فراڈ ہونے کا انکشاف ہوا۔

سیینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں این سی سی آئی اے کے کرپشن کے معاملات بھی پہنچ گئے۔

این سی سی آئی کے افسران کے معاملات پر ایجنڈا ان کیمرا کیا گیا، ان کیمرا ایجنڈے میں پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا آن لائن فروخت کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔

اجلاس کی سربراہی چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمانی نے کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے بتایا کہ مجھے بھی فراڈیوں کی کال آئی، ہیکرز نے مختلف اراکین پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے کا چونا لگایا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مطابق ہیکرز کا یہ گروہ صرف پانچ یا ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔

ہیکرز نے سینیٹر فلک ناز چترالی، قادر مندوخیل اور سیف اللہ ابڑو کو چکرا کر رکھ دیا۔ ہیکرز ٹیلی فون کالز کے ذریعے سینیٹرز کو مکمل ڈیٹا بتا کر لاکھوں روپے کا چونا لگا گئے۔

سینیٹر دلاور خان سے ساڑھے 8لاکھ روپے لوٹ لیے گئے جبکہ سینیٹرز فلک ناز چترالی سے دو قسطوں میں ہیکرز پانچ لاکھ کا فراڈ کر گئے۔ خاتون سینیٹر کو فیصل نام کے بندے نے کال کرکے پیسے بٹورے۔

سینیٹر فلک ناز چترالی نے انکشاف کیا کہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر بنانے کے نام پر کال کے ذریعے فراڈ کیا، ہیکرز کے پاس خاندان اور بچوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا۔

ممبر سینیٹ داخلہ کمیٹی نے بتایا کہ این سی سی آئی اے میں شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی نے سائبر کرائم افسروں پر رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں ڈی جی این سی آئی اے نے بتایا کہ تین ماہ کے اندر نئے لوگ ڈیپارٹمنٹ میں لے کر آئیں گے، جو ضرورت ہوگی اس کے مطابق بندے رکھے جائیں گے اور پرانے لوگوں کا بھی دیکھ رہے ہیں ان کا کیا کرنا ہے۔ این سی سی آئی اے کو مکمل بہتر کرنے میں چھ ماہ لگیں گے، ہماری کوشش ہے نیا ادارہ ہے بندے بھی نئے رکھیں جائیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ این سی سی آئی اے میں پراسیکیوشن کا فقدان ہے، مقدمات تو درج ہو جاتے ہیں مگر آگے کچھ نہیں ہوتا۔

ڈیٹا لیک کا معاملہ

شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا معاملہ بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پہنچ گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے پر آپ نے کیا کیا ہے؟

ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اس معاملے میں متعدد مقدمات درج ہوئے ہیں، 851 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہم ان کا آڈٹ بھی کر رہے ہیں، اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

ڈیٹا لیک کے معاملے پر وزیر داخلہ کی بنائی جانے والی تفتیشی کمیٹی کے معاملے پر اسپیشل سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی این سی سی آئی اے لاعلم نکلے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ ڈیٹا لیک کے معاملے پر وزیر داخلہ نے تفتیشی کمیٹی بنائی تھی، اس کا کیا بنا؟ ڈی جی این سی سی آئی اے اور اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی کوئی کمیٹی میرے علم میں نہیں۔

سینیٹر کے بھائی اور بھتیجے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری

سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کا کمیٹی میں نا آنا انتہائی نامناسب ہے، سندھ اور بلوچستان کے آئی جیز کو سخت نوٹسز جاری کرتے ہیں، اگر یہ دونوں آئی جیز آئندہ کمیٹی میں بھی نا آئے تو ہم سینیٹرز مل کر فیصلہ دیں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹر اسلم ابڑو اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو فوری طور پر سیکیورٹی فراہم کی جائے، فوری کا مطلب ہے آج ہی ان دونوں سینیٹرز کو سیکیورٹی فراہم کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور ایران کا ایرانی جوہری مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ڈکی بھائی اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے رشوت لینےکے معاملے میں بڑی پیشرفت ستائیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کے لیے ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ جسٹس گلگت بلتستان سردار شمیم کی مدت ملازمت میں توسیع پی پی رہنما خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس ایف آئی اے عدالت منتقل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈی جی این سی سی آئی اے چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو کے معاملے پر نے بتایا کہ کا انکشاف ڈیٹا لیک کمیٹی نے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف