ٹرمپ انتظامیہ کا نیا فیصلہ: صرف زیادہ تنخواہ والے غیر ملکی ہی امریکا آسکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایچ-ون بی ویزا کے انتخابی عمل کو تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ زیادہ مہارت رکھنے والے اور زیادہ تنخواہ لینے والے غیر ملکی کارکنوں کو ترجیح دی جا سکے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اگر ویزا درخواستوں کی تعداد قانونی حد 85 ہزار سے بڑھ گئی تو نئے قواعد کے تحت اعلیٰ اجرت والے اداروں کی درخواستوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امریکی کارکنوں کو غیر منصفانہ اجرتی مقابلے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ کمپنیوں کو ہر سال نئے ایچ-ون بی ویزے کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس اعلان سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بے چینی پھیل گئی تھی، تاہم بعد میں وضاحت دی گئی کہ یہ فیس صرف نئے ویزوں پر لاگو ہو گی۔
فیڈرل نوٹس کے مطابق، اگر ضابطے کو حتمی شکل مل گئی تو نئے اصول 2026 کی قرعہ اندازی سے لاگو ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی اس پروگرام کو سخت کرنے کی کوشش کر چکی تھی لیکن قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے ناکام رہی تھی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا اندازہ ہے کہ نئے قواعد کے تحت ایچ-ون بی کارکنوں کو دی جانے والی کل اجرت 2026 میں 502 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی اور 2029 سے 2035 کے درمیان یہ اجرتیں بڑھ کر 2 ارب ڈالر سالانہ ہو جائیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال ایچ-ون بی ویزا سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوا جسے 71 فیصد ویزے ملے، جبکہ چین 11.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایچ ون بی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔