ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی مدت میں 7 اکتوبر تک توسیع
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: شہریوں کےلئے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی مدت میں 7 اکتوبر تک توسیع کردی گئی۔
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ شہری 7 اکتوبر تک ہر صورت اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں۔
اس سے قبل آئی جی اسلام آباد کی زیرصدارت پبلک سروس ڈلیوری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے اور ٹریفک نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے تھے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا تھا کہ آئی جی نے لائسنس کے اجرا کے عمل کو مزید تیز کرنے اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے کی ہدایات جاری کیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایف-6 خدمت مرکز کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس دفتر فیض آباد بھی 24 گھنٹے کھلا رہے گا تاکہ شہری دن رات سہولت حاصل کرسکیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا تھا کہ خدمت مراکز کے اوقات کار بڑھا دیے گئے ہیں، جو اب شام 6 بجے کے بجائے رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ عنقریب تھانوں سے بھی ٹریفک سے متعلقہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کو مزید آسانی میسر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس اسلام ا باد
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔