سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، وفاقی کمپنی کو صوبے میں ترقیاتی اسکیموں پر کام روکنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ حکومت نے وفاقی کمپنی پاکستان انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کو خط لکھ کر صوبے میں ترقیاتی اسکیموں پر کام روکنے کی ہدایت کردی۔
یہ خط سیکریٹری محکمہ بلدیات سندھ نے چیف ایگزیکٹو آفسرپی آئی ڈی سی ایل کو تحریر کیا ہے۔ پاکستان انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کو سابقہ پی ڈبلیو ڈی کی اسکیموں کو مکمل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت 26 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں صوبے میں پی آئی ڈی سی ایل کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حکومت سندھ کو پی آئی ڈی سی ایل کے سندھ کے اندر دیگر ترقیاتی منصوبوں میں اپنا کردار بڑھانے پر تشویش ہے۔
کراچی اربن انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج اور حیدرآباد اربن انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج عمل درآمد کروانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل کا ترقیاتی اسکیموں پر عملدرآمد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کے خلاف ورزی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی آئی ڈی سی ایل انفرا اسٹرکچر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔