تحریک تحفظ آئین کا 27 ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن یوم سیاہ منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
تحریک تحفظ آئین کے اعلامیہ کے مطابق عدلیہ کا نظام منہدم کیا جارہا ہے، وکلا کا اس مشاورت میں کلیدی کردار ہوگا، بار کونسل شرکت یقینی بنائیں، سپریم اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان سے وفد کی صورت میں ملاقات کی جائے گی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین نے 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا، جبکہ قومی مشاورتی اجلاس کے بعد ملک گیر جلسے جلوسوں کا اعلان کیا جائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں اسی ہفتے قومی مشاورتی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بلایا جائے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن یوم سیاہ منایا جائے گا، عوام سے اپیل ہوگی کہ سیاہ پٹیاں باندھ کر یومِ سیاہ میں شریک ہوں جبکہ وکلا عدالتوں میں کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کریں گے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں نیا عمرانی معاہدہ لایا جائے، ہمیں عوامی رائے سازی کا آغاز کرنا ہے جس کے لیے کمیٹی بنادی ہے، اس مشاورت کو صرف اوپر کی سطح تک نہیں رکھیں گے، تاجر تنظیموں کو بھی اس مشاورت میں شرکت کی دعوت دیں گے، ہر عوامی رائے ساز سے درخواست ہے اس پر خیالات کا اظہار کرے۔ تحریک تحفظ آئین کے اعلامیہ کے مطابق عدلیہ کا نظام منہدم کیا جارہا ہے، وکلا کا اس مشاورت میں کلیدی کردار ہوگا، بار کونسل شرکت یقینی بنائیں، سپریم اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان سے وفد کی صورت میں ملاقات کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اعلامیہ کے مطابق تحریک تحفظ آئین اس مشاورت
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔