سٹی42: پنجاب میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے اثرات اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔ کئی علاقوں میں تاحال پانی کھڑا ہے جس کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہو رہی ہے اور متاثرہ افراد کو گھروں کو واپس جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سینکڑوں گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ باغات، تعلیمی ادارے، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار  

اگرچہ پانی کی سطح میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں جگہ جگہ پڑے شگاف اب تک بند نہیں کیے جا سکے۔ راستے بند ہونے کے باعث متاثرین کی واپسی ممکن نہیں ہو رہی اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء تک رسائی بھی دشوار ہو گئی ہے۔ کئی متاثرین مویشیوں کے لیے چارے کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ جن کے مکانات منہدم ہو چکے ہیں وہ ٹینٹ نہ ملنے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین نے خوراک، راشن اور جانوروں کے لیے ونڈا و چارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 توشہ خانہ ٹو کیس:بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت 7 اکتوبر کو مقرر

دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال بدستور قائم ہے۔ پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے اور بہاؤ 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ ٹھٹھہ میں یار محمد منچھر سمیت کئی کچے کے دیہات زیر آب آ گئے ہیں، جس کے باعث مقامی افراد نے قریبی بندوں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ کئی لوگ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

نواب شاہ اور مٹیاری میں بھی کچے کے علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہالہ کے دیہاتوں سے لوگ کشتیوں کے ذریعے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔

    ایشیا کپ T20: پاکستان اور بنگلادیش کا فیصلہ کن مقابلہ آج ہوگا

پنجاب میں دریاؤں کی مجموعی صورتحال نسبتاً بہتر ہو چکی ہے۔ جلال پور پیر والا میں سیلابی پانی کے اترنے کے بعد 5 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ کبیر والا میں دریائے راوی اور چناب کے پانی کا دباؤ کم ہوا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق، دریائے ستلج میں بھی کئی ہفتوں بعد پانی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا بہاؤ معمول پر آ چکا ہے، جبکہ صرف ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب باقی ہے اور یہاں بھی پانی کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر ذاتی ڈیٹا محفوظ بنانے کا آسان طریقہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 کے باعث

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب