Express News:
2026-06-03@05:31:26 GMT

عالمی موسمیاتی ادارہ اور سیلاب سے بچاؤ

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے ہر گاؤں، شہر، قریہ، بستی، پہاڑوں، زمینوں پر ایسے دن اور رات آتے رہے کہ خوب گرج چمک کے ساتھ کہیں بار بار اور ان گنت بار بارش ہوتی رہی، غالباً چکوال میں ’’ کلاؤڈ برسٹ‘‘ ہوا جس سے شہر اور ارد گرد میں خوب پانی جمع ہوا اور سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی۔

پھر مختلف شہروں میں کلاؤڈ برسٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہاڑوں پر بارش اور گلیشیئرز بھی پگھل کر ندی نالوں پر ٹوٹنے لگے جس سے نہریں لبریز ہونے لگیں، جس نالے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس مرتبہ اپنی حد میں رہے گا وہ حدوں کو توڑتا ہوا اپنے ساتھ انسان، مال مویشی، سامان حتیٰ کہ کاریں بھی بہا کر لے گیا۔ پھر لاہور شہر میں بار بار موسلا دھار بارش ہوتی رہی۔ یہی حال راولپنڈی اور دیگر شہروں کا بھی تھا۔

ادھر بھارت میں بھی خوب بارشیں ہوئیں۔ بھارت نے عنقریب ایک جنگ ہاری تھی جسے وہ آج تک نہیں بھولا۔ اس نے اپنی باری میں پانی کی طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کر ڈالا۔ اپنے ڈیمز بھرنے شروع کر دیے اور اس سے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر حملہ آور ہو گیا۔ اب دریاؤں کی روانی میں بے چینی پیدا ہوئی، وہ غضب ناک ہوکر آگے بڑھتے رہے، سانپ چھوڑے گئے، مگرمچھ بھی آتے رہے، یہ سیلابی پانی جب بلا اطلاع چھوڑ دیا گیا تو گاؤں، دیہات، قصبوں میں شہری رات چین کی نیند سو رہے تھے کہ اعلانات سن کر ہڑبڑا کر اٹھے کہ باہر محفوظ جگہوں پر چلے جاؤ، کیوں کہ پانی آ رہا ہے۔

جب وہ باہر نکل ہی رہے تھے کہ پانی اندر آ گیا۔ دیواروں کو توڑنے لگا، دروازے اٹھا کر پھینکنے لگا، باڑوں سے گائے بھینسوں بکریوں کے ساتھ غصے سے ایسا سلوک کیا جیسے ان کو اغوا کرکے لے جا رہا ہو۔ بس پھر گاؤں ڈوب گئے، بستیاں بہہ گئیں، قصبے پانی میں گھر گئے، شہروں میں پانی داخل ہو گیا، کہیں 20 فٹ تک اوپر کہیں 30 فٹ تک اوپر الامان الحفیظ۔

لیکن ہماری اپنی غلطیاں، لاپرواہیاں بھی ہیں عالمی موسمیاتی ادارہ تو 2024 میں ہی خبردار کرچکا تھا کہ نہریں، جھیلیں اور دریا اپنی فطری روانی سے ہٹ گئے ہیں۔ جب بادل ٹوٹ رہے تھے، ندی نالے اژدھے کی طرح پھیل رہے تھے، یہی پانی جو زندگی کا پیغام لاتا تھا اب مکان، مال مویشی، انسان اور سامان سب کچھ اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ یہ وہ عدم توازن ہے جسے عالمی موسمیاتی رپورٹ نے پانی کا غیر مستحکم نظام کہا ہے۔

یہ واویلا کچھ عرصے سے مچایا جا رہا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا اہم شکار ملک بن چکا ہے، کیونکہ ہمارا مافیائی نظام عرصہ دراز سے جنگلات کا صفایا کر رہا تھا۔ ہم شہر پھیلاتے رہے اور دریائی گزرگاہوں پر مکانات بناتے رہے۔ دنیا نے اپنی صنعتوں کو کھولا، دھواں اڑاتے رہے، فضاؤں کو زہر آلود بناتے رہے لیکن ہم بچاؤ کا کوئی نظام نہ بنا سکے۔ پڑوسی ملک سیکڑوں اور چین ہزاروں ڈیمز بنا چکا اور ہم ابھی ایک دو تین کی گنتی گن رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کراچی سمیت پورے ملک میں درخت اگائیں، ندی نالوں کی صفائی کریں اور جو بھی فیصلہ سازی کریں ان لوگوں کو شامل کریں جو متاثر ہوئے ہیں جیسے کسان، شہری، یونین کونسل کے نمایندے اور دیگر افراد وغیرہ۔

 ہم اپنی زمینوں پر فطرت کے خلاف اور خاص طور پر دریاؤں کے راستوں پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے، بس پھر دریا بھی غضب ناک ہوگئے، قیمتی لکڑی کے حصول کے لیے جنگلات کا کٹاؤ کرتے رہے، پہاڑوں سے درخت چھینتے رہے، وہ چیختے رہے کہ ہم سے ہماری چادر نہ کھینچی جائے لیکن اشرافیہ اور مافیا کب ماننے والے تھے۔ شہروں میں آبادی بڑھی لیکن نکاسی آب کا انتظام نہ ہو سکا، اب بہت سے ڈیمز بنانے پڑیں گے، سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے گہرائی والے کنوئیں بنانے ہوں گے، اب ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ اپنے معصوم بچوں اور معاشرے کے ہر فرد کو اب ’’ تیرنا ‘‘ سیکھنا ہوگا۔

اس میں مہارت پیدا کرنی ہوگی تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنے مال مویشی اور مال و اسباب بھی کچھ لے کر دور پار جا سکیں۔ دنیا کے کئی ملکوں نے پانی کے ساتھ دوستی کر لی۔ بنگلہ دیش کے ہرگاؤں میں کشتیاں موجود ہوتی ہیں، اسکول کے بچوں کو تیراکی سکھائی جاتی ہے، ہمیں رضاکاروں کی ٹیم تیار کرنا ہوگی، ان کی تربیت کرنا ہوگی، ہر موقع کے لیے کیونکہ کبھی زلزلے آنا شروع ہو جاتے ہیں، کبھی پتھروں کی بارش شروع ہو جاتی ہے، ہمیں تیراکی، زلزلوں سے بچنے کی تدابیر،کشتی رکھنے اور ایسے مضبوط ترین مکانات کی تعمیر جو کچھ عرصے کے لیے سیلابی پانی کی سفاکیت کو برداشت کرلیں ان کی تعمیرات پر غور کرنا پڑے گا۔ ہر گاؤں دیہات کو بنگلہ دیش کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نمٹنے کی تربیت دینا ہوگی۔ اس سلسلے میں ہم اپنے برادر ملک بنگلہ دیش سے تجربہ اور مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر ہم نے آج تیراکی کو، کشتیوں کو، رضاکاروں کی تربیت کو، مضبوط پناہ گاہوں کی تعمیرکو اور دیگر امور کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو سیلاب میں بھی بقا کی نئی کہانی لکھی جائے گی۔

سیلاب آتے رہیں گے گزرتے رہیں گے۔ سانپوں کے کاٹے کا علاج، ویکسین کا استعمال اور ادویات ہر رضاکار کے پاس ہوں، بیماریوں سے، سیلابی وباؤں سے ڈینگی کی وبا سے بچنے کی تدبیر سب کو پتا ہونا چاہیے۔ حکومت جتنے بھی منصوبے بنا لے جب تک ہر فرد کو سیلاب سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی جاتی، سیلاب کے نقصانات سے بچنا محال ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آیندہ اس سے بھی شدید سیلاب آ سکتا ہے۔ ہماری امداد کے لیے باہر ملک سے کوئی نہیں آئے گا، ہمیں خود کو بڑے پیمانے پر قدرتی آفات سے بچنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ (آمین۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی تربیت رہے تھے کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا