پاکستان کاربن گیسسز کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آئندہ نسلوں کیلئے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا کاربن گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر لیکن اس سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ہمارا ماحولیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا عزم پختہ اور غیر متزلزل ہے، ملک میں متبادل توانائی اور شجر کاری کو فروغ دیا جارہا ہے ،2035ء تک انرجی مکس میں قابلِ تجدید اور پن بجلی کا حصہ بڑھا کر 62 فیصد تک کیا جائے گا،2030ء تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں 1200 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا، 30 فیصد ٹرانسپورٹ کو صاف توانائی پر منتقل کیا جائے گا اورپانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا،قرضوں پر قرضے مسئلے کا حل نہیں ، عالمی برادری ماحولیاتی تحفظ کیلئے مالی معاونت کے وعدے پورے کرے ۔ وہ بدھ کو یہاں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور برازیل کے صدر کی جانب سے نیویارک میں منعقدہ اسپیشل کلائمیٹ ایونٹ سے خطاب کررہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں یہاں مخاطب ہیں جب پاکستان کو مون سون کی شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی صورتحال درپیش ہے ،اس موسمیاتی آفت کی وجہ سے 50 لاکھ سے زائد افراد اور 4100 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں، 2022ء میں بھی پاکستان کو سیلاب سے 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس خود اس صورتحال کا مشاہدہ کر چکے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہےلیکن ہم اپنے حصے سے کہیں زیادہ نقصانات اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عالمی برادری آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے ، بڑے پیمانے پر شجر کاری اور جنگلات لگائے جارہے ہیں ، مینگروز کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے ،متبادل اور ماحول دوست پن بجلی ، شمسی اور نیوکلیئر توانائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کہ پاکستان کا ماحولیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا عزم پختہ اور غیر متزلزل ہے، پاکستان نے 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بغیر کسی شرط کے 15 فیصد کمی کا وعدہ کیا تھا۔ مجموعی 50 فیصد کمی کے ہدف کے تحت پاکستان پہلے ہی اپنے غیر مشروط 15 فیصد کمی کے وعدے کو پورا کر چکا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ اس وقت 32 فیصد سے زائد ہے۔ شمسی توانائی کی پیداوار 2021ء کے بعد سات گنا بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان پر عمل درآمد ناکافی عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کے باعث شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ2035ء تک ملک کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید اور پن بجلی کا حصہ بڑھا کر 62 فیصد تک کیا جائے گا،2030 تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں 1200 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا،2030 ءتک 30 فیصد ٹرانسپورٹ کو صاف توانائی پر منتقل کیا جائے گا،ملک بھر میں 3 ہزار چارجر اسٹیشن قائم کیے جائیں گے،کلائمیٹ سمارٹ زراعت کو فروغ دیا جائے گا،پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ آگے بڑھایا جائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ ایکشن کی ضرورت ہے،عالمی درجہ حرارت میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کاربن گیسوں کے اخراج انہوں نے کہا کہ متبادل توانائی ماحولیاتی تحفظ تحفظ کو یقینی متاثرہ ممالک کیا جائے گا کو فروغ دیا کہ پاکستان پاکستان کا اقدامات کر ماحول دوست کے تحفظ کے صدر کمی کے کے لیے
پڑھیں:
پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کے 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے آغاز پر شاہین نے پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی اوپنر الیکس کیری کو بولڈ کر کے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی اب پاکستان کے صرف تیسرے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں حریف ٹیم کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس انجام دے چکے ہیں۔
A unique feat for Pakistan captain @iShaheenAfridi today ????
➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.co/5mBlUcoG8g
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS | #TakraarKaTime | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/lh6zWbjS25
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026
وسیم اکرم نے سنہ 1993 میں کراچی میں زمبابوے کے خلاف اینڈی فلاور کو پہلی گیند پر آؤٹ کیا تھا جبکہ وقار یونس نے 2001 میں لیڈز میں انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک کو ابتدائی گیند پر پویلین بھیجا تھا۔
پہلی گیند پر وکٹ لینے والے پاکستانی کپتان
وسیم اکرم: سنہ 1993 بمقابلہ زمبابوے (کراچی)
وقار یونس: سنہ 2001 بمقابلہ انگلینڈ (لیڈز)
شاہین شاہ آفریدی: سنہ 2026 بمقابلہ آسٹریلیا (لاہور)
شاہین آفریدی نے صرف ابتدائی وکٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے مزید 2 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 47ویں اوور میں میتھیو کوہنیمن اور 49ویں اوور میں نیتھن ایلس کی وکٹ حاصل کی اور 8 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
مزید پڑھیے: شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
شاہین کے علاوہ حارث رؤف، ابرار احمد اور عرفات منہاس نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا جس کے باعث آسٹریلوی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز تک محدود رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں